سری نگر، 28 جنوری (یو این آئی) سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد ریاست کے خصوصی درجے کی بحالی کے لئے ہے نہ کہ اس لئے کہ یونین ٹریٹری کی بجائے اس کو ریاست کہا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بی جے پی کی طرح یہ سوچتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ بحال کرنا ناممکن ہے، تو وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں کیونکہ قوموں کی زندگی میں جدوجہد ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد اس بات کے لئے جاری رہے گی کہ اس ریاست کا وہ درجہ بحال ہو جائے جو اس ریاست کو دفعہ 370 کے تحت حاصل تھا۔
پروفیسر سوز نے جمعرات کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا: ‘میں نے جو گذشتہ روز ریاست کے خصوصی درجہ پر بیان دیا تھا اُس کے بارے میں کچھ حلقوں میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے اس مسئلے پر تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے یہ کہا تھا کہ مین اسٹریم الائنس سے اگر کوئی یونٹ علیحدگی اختیار کرتا ہے تاکہ اپنی پارٹی کے مقاصد کو تقویت دے، تو ایسا ہو سکتا ہے، مگر الائنس کے مقاصد کو ہر صورت میں تعاون دیا جا سکتا ہے کیونکہ الائنس بجائے خود بڑے مقاصد کی ترجمان ہے!’۔
پروفیسر سوز نے کہا کہ میری نظر میں ریاست جموں و کشمیر میں موجودہ حالات میں کسی بھی جماعت کو کسی تضاد کا سامنا نہیں ہے اور سبھی جماعتیں یہ جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں مشترکہ مقاصد کی تکمیل کے لئے جدوجہد کی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا: ‘موجودہ حالات میں ایسا طرز عمل یعنی مشترکہ مقاصد کی تکمیل، ضروری عمل بن گیا ہے جب کہ مرکزی حکومت اس فکر سے آزاد ہو گئی ہے کہ عوامی مقاصد کیا ہیں اور اُن مقاصد کی تکمیل کے لئے جدوجہد کی کیا حقیقت ہے!’۔
پروفیسر سوز نے کہا کہ میری نظر میں اب کے حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیر کی مین اسٹریم جماعتیں مشترکہ مقاصد کے لئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا: ‘اب یہ حقیقت نقش بر دیوار ہے کہ لوگوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے لامثال یگانگت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے’۔
سوز نے الزام لگایا کہ کچھ سیاسی گروپ جان بوجھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے میں لگے ہیں کہ کشمیر کے لوگ ریاست کا وہ درجہ بحال کرنا چاہتے ہیں، جس کے مطابق یونین ٹریٹری کی بجائے یہ باقاعدہ ریاست تھی۔
انہوں نے کہا: ‘وہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے، مگر ریاست کے لوگوں کی بنیادی جدوجہد اس بات کے لئے ہے کہ ریاست کا وہ درجہ بحال کیا جائے جو آئین ہند میں اس ریاست کا درجہ دفعہ 370 کے تحت تھا!’۔










