موسم سرما کی آمد سے قبل ہی بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان

متعلقہ محکموں کے خلاف سراپا احتجاج ، اعلیٰ حکام سے مداخلت کی مانگ

سرینگر/ / این این بی // موسم سرما کی آمد آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں بجلی کی آنکھ مچولی اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف وادی کے شمال وجنوب میں لوگ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ بیشتر علاقے سورج غروب ہونے کے بعد گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی نے سنگین رخ اختیا ر کر لیا ہے ۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وادی کشمیر میں سردیاں بڑھنے کے ساتھ ہی برقی رو کی عدم دستیابی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں آئے دن وادی کے اطراف واکناف میں صارفین سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔وادی کے شما ل و جنوب کے علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی اور پینے کے پانی کی قلت پر لوگوں نے شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے پی ڈی ڈی اور جل شکتی محکمہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کو بار بار آگاہ کیا گیا کہ لوگوں کو تشدد پر اتر آنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے تاہم دونوںمحکمے میں لوگوں کے آگاہ کرنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اور جان بوجھ کر لوگوں کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کرکے انہیں سڑکوں پر آنے کیلئے اکسا رہے ہیں۔صارفین نے شکایت کی کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث ان کے علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں ۔ادھر کچھ دکانداروں نے شکایت کی کہ جاڑے کے موسم میں چار بجے سے چھ بجے تک گراہک ان کے دکانوں پر کوئی بھی چیز خریدنے کیلئے آتے ہیں تاہم بجلی کی عدم دستیابی کے باعث وہ بیکار بیٹھے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بری طرح سے چوپٹ ہو کر رہ گیا ہے جبکہ محکمہ پی ڈی ڈی کو بار بار اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ اس کاروبار والے علاقے میں برقی رو ستیاب رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں یہ علاقہ جہاں کاروبار کے لحاظ سے مشہور و معروف ہیں وہی وادی کشمیر کی ایک اہم جگہ بھی ہے جب راجدھانی کے ہی لوگ بجلی سے محروم ہوں تو دوسرے دور دراز علاقوں کی حالت کیا ہوگی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔