ملازمتوں اور داخلوں میں مقامی نوجوانوں اور طلباءکیلئے 25فیصدر ریزویشن اہم اقدام/چودھری رمضان
سرینگر/ / این این بی // جموں وکشمیر کی ہمہ جہت ترقی، روشن مستقبل،یہاں کے عوام کی راحت رسانی، خوشحالی اور فارغ البالی نیشنل کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری و راجیہ سبھا ممبر ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان نے کہا کہ موجودہ عمر عبداللہ والی حکومت اسی سمت میں تن دہی اور پورے عزم کیساتھ کام کررہی ہے۔ نیشنل نیو زبیورو ( این این بی ) کے مطابق پارٹی ہیڈکوارٹر پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری و راجیہ سبھا ممبر ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان نے پارٹی سے وابستہ افرا دپر زور دیا کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں اور لوگوں کیساتھ قریبی رابطہ رکھ کر اُن کے مسائل و مشکلات اور مطالبات ہر سطح اُجاگر کریں اور ان کا سدباب کرانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ محترمہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی ہدایت کے عین مطابق نیشنل کانفرنس کے ممبرانِ پارلیمان جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی، ریاستی درجہ کی بحالی کیساتھ ساتھ تعمیرو ترقی ضروریات اور لوگوں کے مسائل ملک کے سب سے بڑے ایوان میں اُجاگر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی عوامی حکومت ڈرامہ بازی اور زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر کام کررہی ہے اور گذشتہ دو سال کے دوران ہر ایک شعبے کی بہتری کیلئے قابل قدر کام کیا گیا۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق قوانین کے نفاذ کو نیشنل کانفرنس کی طرف جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے میں ایک اور تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے چودھری محمد رمضان نے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر میں ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور مقامی نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت کی طرف سے پاس کئے گئے اس قانون کے تحت جموں وکشمیر میں قائم ہونے والی نجی یونیورسٹیوں کو ملازمتوں اور داخلوں میں مقامی نوجوانوں اور طالب علموں کیلئے 25فیصد ریزویشن کی شرط رکھی ہے، جو ایک انتہائی خوش آئندہ اور قابل قدر اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے یہاں کے طلبہ کو اپنے ہی خطے میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے دیگر ریاستوں کا رُخ کرنے کی ضرورت میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر تعلیم شمیمہ فردوس اس اہم اور انقلابی فیصلے پر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اُمید امید ظاہر کی کہ ملک اور بیرونِ ملک کی ممتاز یونیورسٹیاں یہاں اپنے کیمپس قائم کریں گی، جس سے خطے کے تعلیمی نظام کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔










