ریاستی درجہ کی بحالی اور دفعہ370کی واپسی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی/ ڈاکٹر فاروق
سرینگر / این این بی // نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی میں پارٹی کے خلاف ناراضگی کی خبروں کے بیچ ممبرن اسمبلی نے پارٹی کے صدر سے ملاقات کی جس دوران ممبران اسمبلی نے اجلاس کے سامنے اپنے خدشات اور تحفظات پیش کئے ، جنہیں پارٹی صدر نے بغور سُنا اور ان کا سدباب کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ نیشنل نیوز بیورو( این این بی ) کے مطابق صدر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں اُن کے رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تنظیمی امورات، پارٹی سرگرمیوں اور پارٹی گراموں کے علاوہ موجوہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا۔ شرکاءممبران اسمبلی نے اجلاس کے سامنے اپنے خدشات اور تحفظات پیش کئے ، جنہیں پارٹی صدر نے بغور سُنا اور ان کا سدباب کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ”ہم نے ممبرانِ اسمبلی کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ان کے مسائل جائز تھے اور انہیں پوری توجہ کے ساتھ سنا گیا۔ کچھ معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے گا جبکہ بعض مسائل کے حل میں وقت لگے گا۔“ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم سب مل کر تنظیم اور حکومت دونوں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کام کریں گے تاکہ عوامی مسائل کا موثر انداز میں ازالہ یقینی بنایا جاسکے۔پارٹی میں ممکنہ بغاوت اور تقسیم کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور کوئی بھی اس جماعت کو تقسیم نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا، ”نیشنل کانفرنس میں پھوٹ پڑنے سے متعلق خبریں سراسر بے بنیاد ہیں۔ یہ ایک منظم جماعت ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسے توڑ سکتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نہ ماضی میں ٹوٹی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کبھی ٹوٹے گی۔“ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقعے پر جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور دفعہ 370 کی بحالی کیلئے پارٹی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا، ”ریاستی درجے کی بحالی اور دفعہ 370 اور دفعہ 35A کی واپسی کیلئے بھی ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور انشاءاللہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔“










