لیفٹیننٹ گورنر کا ’ پولیس یادگاری دِن‘ کے موقعہ پر شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت

لیفٹیننٹ گورنر کا ’ پولیس یادگاری دِن‘ کے موقعہ پر شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت

کہا، شہدأ کی بہادری ہمیں اَمن ، اِتحاد اور سلامتی کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتی ہے

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ’پولیس یادگاری دِن‘ کے موقعہ پر ان پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اَپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اَپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔اُنہوں نے بہادر شہدأ کی ہمت، لگن اور حب الوطنی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات اور قربانیاں جموں و کشمیر اورپوری قوم کے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔اپنے پیغام میں، لیفٹیننٹ گورنر نے تمام پولیس شہداء￿ کے لیے شکریہ ادا کیا اور ان کے اہل خانہ کے لیے گہری عزت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے بہادر اہلکاروں کے اہل خانہ کی صحت اور خوشحالی کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ اگرچہ کوئی شناسائی اہل خانہ کو ہوا نقصان پورا نہیں کر سکتی، لیکن ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی قربانی کا احترام معنی خیز مدد اور دیکھ بھال کے ذریعے کرے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے پیغام میں تمام پولیس شہدأ کاشکریہ اَدا کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ گہری ہمدردی اور احترام کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے بہادر اہلکاروں کے اہل خانہ کی صحت اور خیریت کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا ۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ کوئی شناسائی اہل خانہ کو ہوا نقصان پورا نہیں کرسکتی ،لیکن یہ قوم کی ذِمہ داری ہے کہ وہ ان کی قربانی کا احترام کریں۔اُنہوں نے کہا،’’میںنے ہمیشہ کہا ہے کہ کوئی اعزاز یا مدد کسی کنبے کو اَپنے پیارے کو کھونے کے دُکھ کا اَزالہ نہیں کرسکتی ۔ اِس کے باوجودیہ قوم کا فرض ہے کہ وہ ان کی قربانیوں کا احترام صرف الفاظ سے ہی نہیںبلکہ اَپنے عمل اور ذِمہ داریوں کے ذریعے بھی کرے۔ میں جموں و کشمیر پولیس کے پورے کنبے کو یقین دِلاتا ہوں کہ شہدأ کے اہل خانہ کے لئے باوقار زِندگی، فلاح و بہبود اور ضروری تعاون کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش جاری رہے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’جموں و کشمیر پولیس فورس کے ہزاروں اہلکار وں نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اَپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کی بہادری صرف یونین ٹیریٹری کی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے پورے پولیس نظام کے لئے ایک مشعلِ راہ اور تحریک ہے۔ قوم ان شہدأ کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جنہوں نے ’ترنگے ‘ کے وقار ، عزت اور شان کے لئے سب کچھ قربان کردیا۔‘‘اُنہوں نے اِ س بات پر بھی زور دیا کہ پولیس کی وردی خدمت، ذِمہ داری اور قربانی کی علامت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیسنگ کا اصل معیار عوامی تحفظ کو یقینی بنانے، شہریوں کو اِنصاف فراہم کرنے اور ضرورت اور بحران کے وقت معاشرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں مضمر ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آزادی کے بعد گزشتہ 79 برسوں میںہندوستان کو متعدد چیلنجوں کا سامنا پڑا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس، ہندوستانی فوج اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز(سی اے پی ایفز) نے مشکل ترین حالات میں ملک کی سلامتی اور سا لمیت کی حفاظت کی ہے۔ آج ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے اَپنے ہدف کی جانب عزم کے ساتھ گامزن ہے۔ اِس سفر میں جموں و کشمیر کا امن، استحکام اور ترقی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں یقینی بنانے کی بڑی ذمہ داری پولیس، فوج اور سی اے پی ایفز کے کندھوں پر ہے۔‘‘اُنہوںنے جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کو مضبوط بنانے کے لئے مرکزی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اِتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو برقرار رکھیں اور امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی قوتوں اور عناصرکے خلاف چوکس رہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہمارا مقصد جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور اس سے وابستہ ہر عنصر کی نشاندہی کرنا اور ان کا خاتمہ کرنا ہے ۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ سرزمین علیحدگی پسند اور دہشت گرد عناصر سے پاک نہ ہو جاتی۔ میں جموں و کشمیر کے اندر ان عناصر کو خبردار کرتا ہوں جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں کہ تمہارا وقت اَب ختم ہوچکا ہے ۔ اگر تم پاتال میں بھی چھپنے کی کوشش کرو گے، تب بھی ہم تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمہیں قانون کے مطابق سزا ملے۔‘‘اُنہوں نے خواتین، بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے مسلسل کوششوں، منشیات کی سمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانے اور نارکو ٹیرراِزم اور اس کے معاون نیٹ ورکس کا سختی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔منوج سِنہا نے کہا،’’خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روکتھام، کمزور طبقات کا تحفظ اور متاثرین کو بروقت اِنصاف کی فراہمی ہماری اوّلین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ ایسے جرائم کی نگرانی اور روکتھام کے نظام کا مسلسل جائزہ لینا اور انہیں مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔ اِسی طرح منشیات سے پاک جموں و کشمیر کا عزم ہمارا اِجتماعی عہد ہونا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’میں جموں و کشمیر پولیس، ہندوستانی فوج اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے تمام اَفسران اور اہلکاروں کی خدمت کے جذبے، بہادری اور فرض شناسی کو سراہتا ہوں۔ میں ان کے ہر مشن میں کامیابی، ان کی زندگیوں میں تحفظ اور ان کے روشن مستقبل کے لئے دُعاگو ہوں۔‘‘