لداخ نے عدالتی تاریخ رقم کردی

لداخ نے عدالتی تاریخ رقم کردی

ملک کی بلند ترین ہائی کورٹ بنچ نے لیہہ میں باقاعدہ سماعتوں کا آغاز کیا

لیہہ//چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ڈاکٹر پشپندر سنگھ بھاٹی اور جسٹس سنجے پریہار نے بدھ کے روز لیہہ میں پہلے باقاعدہ ڈویژن بنچ کی صدارت کی جس سے ہندوستانی عدالتی تاریخ میں ایک نیا اور تاریخی باب رقم ہوا۔جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی نئی قائم کردہ ’ لداخ بنچ ‘ جو سطح سمندر سے زائد اَز 11,500 فٹ کی اِنتہائی بلند ی پر واقع ہے ،نے آج سے مقدمات کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کیا ۔دن کا آغاز ڈویژ ن بنچ کی سماعت سے ہوا جس میں چیف جسٹس نے بذریعہ ورچیول موڈ مقدمات کی سماعت کی جبکہ جسٹس سنجے پر یہار لداخ بنچ میں ذاتی طور پر موجود تھے۔ جسٹس سنجے پریہار نے ڈویژ ن بنچ کے فہرست شدہ پانچ مقدمات کی سماعت کے بعد سنگل بنچ کے طور پر 60 مقدمات کی سماعت کی ۔ آج کے مقدمات میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ہائبرڈ سماعت کی گئی جس میں چیف جسٹس بذریعہ ورچیول موڈ سماعت کر رہے تھے اور جسٹس سنجے پریہار فزیکلی سماعت کر رہے تھے ۔جسٹس پریہار نے کہا کہ آج جن 65مقدمات کی فہرست تیار کی گئی تھی ،وہ لداخ کے سائلین کی سہولیت اور ان کے مقدامات کی سماعت کو منظم کرنے کی اِبتدائی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کی طرف سے آج ایسے بلند مقام پر باقاعدہ عدالتی سماعت کا کامیاب آغاز ملک کے عدالتی ڈھانچے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔یہ اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ جغرافیائی رُکاوٹیں اِنصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔لداخ بنچ کا قیام ملک کے دُور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے دُشوار گزار علاقوں تک آئینی اِداروں کی رَسائی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اِس سے قبل لیہہ،کرگل اور لداخ کے دیگر دُور دراز علاقوں کے سائلین کوہائی کورٹ میں پیش ہونے کے لئے سری نگر یا جموں تک طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔یہاں (لداخ میں) عدالتی سماعتوں کا آغاز، لداخ کی قانونی کمیونٹیوں اور وکلأ کے لئے بھی حوصلہ اَفزا ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا لداخ بنچ 18 ؍اکتوبر 2026 ء کو چیف جسٹس آف اِنڈیا جسٹس سوریا کانت نے لیہہ کے علاقے میلونگ تھنگ میں باضابطہ طور پر اِفتتاح کیا تھا۔