سکینہ اِیتو نے بانہال میں 10.44 کروڑ روپے کی لاگت سے ’گورنمنٹ ماڈل ہائیر سکینڈری سکول‘ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا

سکینہ اِیتو نے بانہال میں 10.44 کروڑ روپے کی لاگت سے ’گورنمنٹ ماڈل ہائیر سکینڈری سکول‘ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا

سی ایچ سی بانہال میں سی ٹی سکین کی سہولیت ، ٹراما ہسپتال رامسو کی اَپ گریڈیشن اور اعلیٰ تعلیم کے اقدامات کی جلد یقین دہانی

بانہال// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے بانہال میں’ گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول (بوائز) ‘کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھاجس کی تخمینہ لاگت 10.44 کروڑ روپے ہے۔ یہ منصوبہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) بانہال ڈویژن کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے۔اِس موقعہ پر وزیرموصوفہ کے ہمراہ رُکن اسمبلی بانہال سجاد شاہین، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ڈاکٹر نسیم جاوید چودھری، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ڈاکٹر پونم سیٹھی، جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈوڈہ محمد اشفاق، ایس ڈِی ایم بانہال محمد نصیب بجران، ایگزیکٹیو انجینئران، دیگر افسران اور معزز شہری موجود تھے۔وزیر تعلیم نے ایک عوامی اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے اور بالخصوص دُور افتادہ اور دیہی علاقوں میں صحت خدمات بہتر بنانے کے لئے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے رکن قانون سازاسمبلی کی جانب سے اُٹھائے گئے ترقیاتی مسائل کے جواب میں بانہال میں تعلیم اور صحت شعبوں کے لئے متعدد اَقدامات کی یقین دہانی کی۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت بانہال میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لئے ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ پہاڑی ضلع کے طالب علموں بالخصوصً طالبات اَپنے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔سکینہ اِیتو نے حلقے کے لئے 10 مزیدسمارٹ کلاس رومز کا بھی اعلان کیاجو پہلے سے موجود76 سمارٹ کلاس رومز اور 104 آئی سی ٹی لیبز کے نیٹ ورک میں اضافہ کریںگے۔اُنہوں نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پیمانے کو اُجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں 543 ترقیاتی کام مکمل کئے جا چکے ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے کے منصوبوں میں 113 اضافی کلاس روم، 34 کمپیوٹر لیبارٹریاں، لڑکیوں کے لئے 112 بیت الخلا یونٹس، 33 لائبریریاں، 18 سائنس لیبارٹریاں، 18 ریسورس رومز اور 58 سولر پاور یونٹس ضلع میں قائم کئے گئے ہیں۔اُنہوںنے مزید یقین دہانی کی کہ رکن اسمبلی بانہال کی جانب سے اُجاگر کئے گئے مطالبات بشمول علاقے میں ڈِگری کالجوں جیسے ترقیاتی اداروں کے قیام پر غور کیا جائے گاجبکہ بانہال میں نرسنگ کالج کا قیام مناسب زمین کی دستیابی اور حتمی تعین سے مشروط ہو کر آگے بڑھایا جائے گا۔وزیر موصوفہ نے تدریسی عملے کی مناسب تعداد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ بھرتی کے لئے بھیجی گئی 727 اَسامیوں کے مقابلے میں 526 لیکچررز بھرتی کر کے تعینات کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے پرنسپلوں، زونل ایجوکیشن اَفسران(زیڈ ای اوز) اور چیف ایجوکیشن اَفسران (سی اِی اوز) کی خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کے لئے کئے جا رہے اَقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے صحت خدمات میں ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) بانہال میں جدید سی ٹی سکین مشین نصب کرنے کی اِنتظامی منظوری دِی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تشخیصی سہولیت کی تنصیب کے لئے ٹینڈر نگ کا عمل تیز کیا جارہا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ رام سو کے ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں کا قیام، کارکردگی اور اپ گریڈیشن، نیز نیشنل ہائی وے 44 کے ساتھ ٹراما ہسپتال، عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ اسے مناسب طبی و جراحی عملے سے لیس ایک مکمل فعال ایمرجنسی ہیلتھ سینٹر بنایا جا سکے۔ مجوزہ ’گولڈن آور‘ کے نازک وقت میں بروقت علاج فراہم کرنا ہے۔اُنہوں نے دور دراز علاقوں میں طبی عملے کی کمی کو دور کرنے کے لئے یقین دہانی کی کہ 400 میڈیکل اَفسران کے نئے منظور شدہ پینل سے تعیناتیاں کرتے وقت دور افتادہ صحت اداروں اور ڈسپنسریوں کو ترجیح دی جائے گی۔اِس موقعہ پر وزیر موصوفہ نے بلاک بانہال کی 10 نئی تعینات شدہ آنگن واڑی ورکروںکو تقرری کے احکامات بھی سونپے جو خواتین اور بچوں کے لئے نچلی سطح کی خدمات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔بعد میں اُنہوں نے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بانہال کا دورہ کیا اور اس کے ایمرجنسی یونٹ، اِن پیشنٹ وارڈوں، ڈائلیسس سینٹر اور تشخیصی سہولیات کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے داخل مریضوں سے بات چیت کی، ان کے علاج اور مفت ادویات کی دستیابی کے بارے میں دریافت کیا اور صحت کی مختلف خدمات کے کام کاج کا جائزہ لیا۔سکینہ اِیتونے ہسپتال انتظامیہ کو چوبیس گھنٹے طبی رسپانس، ضروری ادویات کی مناسب دستیابی اور مریضوں کے لئے صحت نگہداشت کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دِی۔اُنہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی کامیابیوں کو اُجاگر کیا جن میں سرکاری تعلیمی و طبی اداروں کو مضبوط بنانے، اہم ترقیاتی ترجیحات پر توجہ دینے اور عوام کے لئے بنیادی خدمات کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔اِس سے قبل رکن قانون ساز اسمبلی بانہال نے وزیرموصوفہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بانہال حلقے کو تعلیم، صحت، سڑک رابطہ اور دیگر شعبوں میں ترقی کے لئے فراخدلانہ فنڈنگ فراہم کی جس میں یو کیپکس بانہال کے لئے 10.44 کروڑ روپے اور تعلیم، صحت، سڑک رابطہ اور دیگر شعبوں کے دیگر اہم ترقیاتی کام شامل ہیں۔