سری نگر//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ملک گیر ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کی عمل آوری پر ایک جائزہ میٹنگ میں شرکت کی جو 22 اکتوبر سے شروع ہو کر 30؍نومبر 2026ء تک جاری رہے گی۔میٹنگ کی صدارت مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبود کسان شیوراج سنگھ چوہان نے کی۔ اُنہوں نے مہم کی نفاذ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا اور نچلی سطح پر اس کی مؤثر عمل آور کو یقینی بنانے کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیاجس میں ہر گاؤں کے کسانوں تک پہنچنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔دوران میٹنگ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے متعلقہ وزرأ اور محکموں کو ہدایت دی کہ کسان کمیونٹی تک مؤثر رسائی اور ٹھوس فوائد کو یقینی بنانے کے لئے ایک مضبوط نفاذی نظام وضع کیا جائے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ مٹی کا تحفظ محض زرعی ترجیح نہیں بلکہ ملک کی طویل مدتی دیرپائی اور آنے والی نسلوں کی غذائی سلامتی کی بنیاد ہے۔وزیر جاوید احمد ڈار نے جموں و کشمیر کی تیاریوںکے بارے میں میٹنگ کو بریفنگ دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر حکومت کسانوں کو تمام ضروری مدد اور سہولیات فراہم کرنے اور پورے یونین ٹیریٹری میں زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر نے گزشتہ خریف سیزن کے دوران مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق اپنے اہداف حاصل کئے تھے۔اُنہوں نے زرعی شعبے کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاری ربیع سیزن میں گزشتہ خریف سیزن کی پیش رفت کی بنیاد پر مزید بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے مربوط کوششیں کی جائیں گی۔وزیرجاوید ڈار نے مزید بتایا کہ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سکاسٹ) کشمیر و جموں متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر بھر میں مہم کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ میں فعال طور پر حصہ لیں گے۔اُنہوں نے زرعی اِداروں، فیلڈ عملے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کسانوں کو مٹی کی جانچ، نامیاتی مادّے کے تحفظ، کھادوں کے متوازن اِستعمال اور فصلوں کی باقیات کے ماحول دوست انتظام کے بارے میں آگاہ اور حساس بنایا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ کسانوں میں زیادہ بیداری پیدا کرنا اور دیرپا زرعی طریقوں کو اَپنانا ،مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھنے، فصلوں کی پیداوار ی صلاحیت بہتر بنانے اور جموں و کشمیر میں کاشتکاری کی طویل مدتی دیرپائی کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار اَدا کرے گا۔










