یوٹی کی حیثیت سے جموں و کشمیر کو متعلقہ حکام سے مناسب طرز عمل کی توقع / وزیر اعلیٰ عمرعبد اللہ
سرینگر / این این بی // JKASافسرہ کے ساتھ میٹنگ کے دوران بد سلوکی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہوتا توبدسلوکی کرنے والے آئی اے ایس افسر کو اس کے طرز عمل کی تحقیقات مکمل ہونے تک جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک کیا جاتا۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہوتا تو ایک نوجوان جے کے اے ایس خاتون افسر کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کرنے والے آئی اے ایس افسر کو اس کے طرز عمل کی تحقیقات مکمل ہونے تک جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک کیا جاتا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت حاصل ہوتی تو مبینہ طور پر ایک نوجوان جے کے اے ایس افسرہ کے ساتھ بدزبانی کرنے والے آئی اے ایس افسر کو تحقیقات مکمل ہونے تک جی اے ڈی کے ساتھ منسلک کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت سے جموں و کشمیر کو ان حکام سے مناسب طرز عمل کی توقع ہے جن کے پاس آئی اے ایس افسران پر انتظامی کنٹرول ہے۔ ان حکام کو چاہیے کہ وہ ایک اچھی مثال قائم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بدزبانی، دھمکی آمیز رویے اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے کو دبایا نہ جائے۔عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے توہین آمیز یا دھمکی آمیز رویے کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہے اور ایسے معاملات میں جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔یہ بیان ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو سرکاری ورچوئل میٹنگ کے دوران ایک نوجوان جے کے اے ایس خاتون افسر کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دریں اثنا، جے کے اے ایس ایسوسی ایشن نے متعلقہ خاتون افسر کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک روزہ قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو افسران کے وقار، پیشہ ورانہ احترام اور انتظامی نظام میں جوابدہی کے مطالبے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔










