میٹنگ کے دوران آئی اے ایس آفیسر کی خاتون JKASافسر کے ساتھ بدسلوکی

میٹنگ کے دوران آئی اے ایس آفیسر کی خاتون JKASافسر کے ساتھ بدسلوکی

حکومت کی جانب سے تحقیقات کا حکم ،مندیپ کور تحقیقاتی افسر مقرر،15روز میںرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

سرینگر / این این بی // محکمہ کی میٹنگ کے دوران محنت و روزگار کے انتظامی سیکرٹری کمار راجیو رنجن( آئی اے ایس) کی جانب سے خاتون JKASافسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہونے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں نے اس کی شدید مذمت کی جس کے بعد حکومت نے معاملہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کو 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق محنت و روزگار محکمہ کی ایک جائزہ میٹنگ کے دوران انتظامی سیکرٹری کمار راجیو رنجن( آئی اے ایس) کی جانب سے خاتون JKASافسر بینش وانی کے ساتھ بد سلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کمار راجیو رنجن کو مشن یووا کے جائزہ اجلاس کے دوران خاتون افسر بینش وانی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرتا ہے ۔ سوشل میدیا پر کلپ کے وائرل ہونے کے بعد مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور واقعے کی مذمت کی گئی۔اس کے بعد جموں و کشمیر حکومت نے محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکریٹری کمار راجیو رنجن، آئی اے ایس، کے خلاف ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس ضمن میںجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق، حکومت نے مندیپ کور،(آئی اے ایس ) کمشنر سیکریٹری محکمہ ہاو ¿سنگ و شہری ترقیات کو اس معاملے میں تحقیقاتی افسر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی افسر کمار راجیو رنجن اور گاندربل میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ بینش وانی، جے کے اے ایس، سے متعلق مبینہ بدسلوکی کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کریں گی۔ یہ معاملہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے تناظر میں زیرِ غور لایا گیا ہے۔حکم نامے کے مطابق، تحقیقاتی افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم جاری ہونے کی تاریخ سے 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔اس معاملے میں امیت ورمانی، جے کے اے ایس، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو پریزینٹنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ معاملہ فی الحال مبینہ بدسلوکی سے متعلق ہے اور تحقیقات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے مزید حقائق واضح ہو سکیں گے۔