پنجاب میں خاتون گرفتار، دو فوجی اہلکاروں کےخلاف بھی مقدمہ درج
سرینگر / این این بی // پنجاب پولیس کی کاو ¿نٹر انٹیلی جنس ونگ نے پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو فوجی تنصیبات سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے، جبکہ اس مبینہ جاسوسی نیٹ ورک میں کردار ادا کرنے کے الزام میں دو فوجی اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق پنجاب پولیس کی کاو ¿نٹر انٹیلی جنس ونگ نے پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو فوجی تنصیبات سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کیا ۔ پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت گرنور سدھو کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع فریدکوٹ کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔ اسے اتوار کے روز حسینوالہ بارڈر روڈ پر زیرِ تعمیر ایک پل کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ مبینہ جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔پولیس کے مطابق جمعرات کے روز اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ملزمان مبینہ طور پر پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ فوجی علاقوں، چھاو ¿نیوں اور دیگر حساس مقامات سے متعلق خفیہ معلومات شیئر کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فوجی اہلکار، جو بھارت اور چین کی سرحد کے ساتھ تعینات تھے، مبینہ طور پر حساس معلومات جمع کرتے تھے، جبکہ گرفتار خاتون موبائل فون، ٹیبلٹس اور انٹرنیٹ کے ذریعے ان معلومات کو آگے منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرتی تھی۔اس معاملے میں تینوں ملزمان کے خلاف فیضکہ میں واقع اسٹیٹ اسپیشل آپریشن سیل (ایس ایس او سی) پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا فریدکوٹ فوجی چھاو ¿نی سے متعلق کوئی حساس معلومات پاکستانی ایجنسیوں تک پہنچائی گئی تھیں یا نہیں۔حکام کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تحقیقات کے دوران مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کے دیگر پہلوو ¿ں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔










