کابینہ میں توسیع اور ردوبدل سے قبل وزراءکے استعفوں سے متعلق خبریں بے بنیاد

میڈیا قیاس آرائیوں کو غیر ضروری اہمیت نہ دے/ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری

سرینگر/ / این این بی // کابینہ میں ممکنہ توسیع اور ردوبدل سے قبل وزراءکے استعفوں سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی وزیر سے استعفیٰ دینے کے لیے نہیں کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع یا کسی وزیر کو برقرار رکھنے اور ہٹانے کا فیصلہ نیشنل کانفرنس کی قیادت اور وزیر اعلیٰ ہی کریں گے۔نیشل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق اتوار کو نوراتری کے پہلے دن بہو فورٹ میں واقع کالی ماتا مندر میں حاضری دینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ماتا کے دربار میں کھڑے ہو کر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی وزیر سے استعفیٰ طلب نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مجوزہ کابینہ میں ردوبدل سے قبل تمام وزرائ نے وزیر اعلیٰ کو اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں۔سریندر چودھری نے کہا کہ کابینہ میں توسیع یا ردوبدل کے حوالے سے فیصلہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور وزیر اعلیٰ کو کرنا ہے۔ ان کے مطابق قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہی حتمی ہوگا۔انہوں نے کہا، ”جسے قیادت کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرے گی، اسے شامل کیا جائے گا اور جسے ہٹانے کا فیصلہ کیا جائے گا، اسے ہٹا دیا جائے گا۔“نائب وزیر اعلیٰ نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو غیر ضروری اہمیت دینے سے گریز کریں اور بغیر تصدیق شدہ اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔اس موقع پر سریندر چودھری نے قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پیش آنے والے واقعات کا بھی حوالہ دیا، جہاں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سی جے پی کی مجوزہ کوشش پولیس کارروائی کے باعث متاثر ہوئی تھی۔انہوں نے اس واقعے کی میڈیا میں مبینہ طور پر محدود کوریج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو اس معاملے پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے دہلی پہنچنے والے بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر کیسا سلوک کیا گیا۔چودھری نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی قیاس آرائیوں کو نمایاں کرنے کے بجائے عوامی اہمیت کے معاملات، مظاہرین کے مسائل اور بچوں کے حقوق سے متعلق واقعات کو بھی مناسب جگہ دیں۔