سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اتوار (11 اکتوبر) کی علی الصبح جاری بیان میں بتایا کہ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتہ (10 اکتوبر) کی دوپہر ہوئے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے۔ اس دوران یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا کر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ہوابازی اتھارٹی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 4 سعودی شہری اور 8 غیر ملکی باشندے شامل ہیں۔ ان میں بنگلہ دیش کے 2 شہری اور امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ زخمیوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے، جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اتھارٹی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی جانچ مکمل ہونے تک ایئرپورٹ کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
حوثی حمایت یافتہ المسیرا ٹی وی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ سعودی عرب نے یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں فضائی اور میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔ ان حملوں میں حوثیوں کے زیر کنٹرول راجدھانی صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، آبنائے باب المندب کے قریب کے علاقوں اور کئی شمالی صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ہفتہ کو ہی یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے کئی محاذوں پر کیے گئے 1900 سے زائد حملوں میں 1150 سے زیادہ حوثی جنگجو مارے گئے یا لڑائی سے باہر ہو گئے، جب کہ 180 سے زیادہ فوجی اور رسدی گاڑیوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔ حالانکہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سرکاری فوجی ذرائع نے ’سنہوا‘ کو بتایا کہ یمن کے جنوب مغربی شہر تعز کے آس پاس بھی لڑائی تیز ہو گئی ہے۔ حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی سے شہر کا دفاع کرنے والی سرکاری فوج پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور جنوبی یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں سے جڑنے والی اہم سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر کے جنوب میں شدید لڑائی جاری ہے۔ سعودی فضائی حملوں کی حمایت سے یمنی حکومت نے پیر کے روز ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینا ہے۔ سب سے شدید لڑائی آبنائے باب المندب کے آس پاس دیکھی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یمن 2014 کے اواخر سے ہی تنازعہ کی زد میں ہے، جب حوثی باغیوں نے راجدھانی صنعا اور ملک کے شمالی حصے کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔ یہ حکومت فی الحال جنوبی بندرگاہی شہر عدن سے کام کر رہی ہے۔ تازہ لڑائی کو تنازعہ میں بڑی شدت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر تشدد میں کافی حد تک کمی آ گئی تھی۔










