تین ہزار محروسین کی رہائی ‘ ڈپکے اور ساتھی ہنوز محروس

تین ہزار محروسین کی رہائی ‘ ڈپکے اور ساتھی ہنوز محروس

نئی دہلی//ایجنسیز// دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ آج جنتر منتر احتجاج کی کوشش کے دوران حراست میں لئے گئے تین ہزار افراد کو رہا کردیا گیا ۔ کہا گیا کہ صرف سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ‘ سوشیل میڈیا انفلوئنسر دھرو راتھی اور دو دوسروں کو رہا نہیں کیا گیا ہے اور مابقی تمام محروسین کی رہائی عمل میں آچکی ہے ۔ ان تمام کو پولیس نے آج جنتر منتر پہونچنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا تھا اور مختلف مقامات کو منتقل کیا گیا تھا ۔ آج کے محروسین میں چار مختلف ریاستوں کے سابق چیف منسٹرس ممتابنرجی ‘ پی وجئین ‘ مانک سرکار اور اروند کجریوال بھی شامل تھے ۔ اس کے علاوہ کئی جہدکاروں اور طلباء قائدین کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی ۔ ابھیجیت ڈپکے اور ان کے دو ساتھیوں کو تو دہلی ائرپورٹ پر طیارہ کے اندر سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ دھرو راتھی کو گرو گرام میں ان کے مکان سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ رات تک بھی یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ ڈپکے ‘ راتھی اور دوسروں کو کب رہا کیا جائے گا ۔ رہا کیا بھی جائے گا یا نہیں ۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اتوار کو مزید شدت کے مظاہرے ہونگے کیونکہ طلباء برادری نے گیانیش کمار کے استعفے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ اس مسئہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہلے لڑکیوں اور خواتین کو اور پھر معمر شہریوں کو رہا کیا گیا جبکہ بعد میں سبھی کی رہائی عمل میں آگئی ہے ۔