ڈاکٹروں کی احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل
سرینگر// یو این ایس / کشمیر میں موسم کی تبدیلی اور سردیوں کے آغاز سے قبل فلو اور دیگر سانس کی بیماریوں کے معاملات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس سال کشمیر میں انفلوئنزا کے کیسز معمول سے پہلے سامنے آنا شروع ہوئے ہیں اور مختلف عمر کے افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔جی ایم سی سری نگر کے پلمونولوجسٹ پروفیسر نوید نذیر شاہ نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس سال انفلوئنزا کا آغاز نسبتاً جلد ہوا، جس کے باعث کشمیر میں بھی ستمبر سے ہی اس کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ان کے مطابق عام طور پر کشمیر میں انفلوئنزا کے کیسز نومبر کے آس پاس بڑھتے ہیں، تاہم اس سال ستمبر سے ہی اس کی موجودگی نمایاں ہے۔پروفیسر شاہ نے کہا کہ بعض مریضوں میں فلو کے بعد ثانوی انفیکشن اور نمونیا بھی سامنے آ رہا ہے۔ اگر فلو کی علامات ایک ہفتے میں بہتر نہ ہوں، سانس لینے میں دشواری ہو یا تیز بخار برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔انہوں نے ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے لوگوں کو انفلوئنزا کی ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق اس سال تین اجزائی ویکسین کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسینیشن کے حوالے سے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔دوسری جانب شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) نے بھی حال ہی میں ایک عوامی صحت ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں کو انفلوئنزا اور نمونیا سے بچاو ¿ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایڈوائزری میں ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنے اور غیر ضروری طور پر اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق موسم خزاں اور سردیوں میں سانس کی وائرل بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ سرد موسم دمہ، دائمی پھیپھڑوں کی بیماری اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کی مشکلات بھی بڑھا سکتا ہے۔بخار، مسلسل کھانسی، گلے میں درد، ناک بہنا، جسم میں درد اور تھکن فلو جیسی بیماریوں کی عام علامات ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان علامات کی وجہ کئی مختلف وائرس ہو سکتے ہیں اور صرف لیبارٹری ٹیسٹ سے انفلوئنزا کی تصدیق ممکن ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد تقریباً ایک ہفتے میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم چھوٹے بچوں، 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں یا کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بیماری سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ڈاکٹروں نے فلو جیسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گھر میں رہنے اور دوسروں سے قریبی میل جول کم کرنے کا مشورہ دیا ہے، خصوصاً اسکول جانے والے بچوں کے لیے اس احتیاط کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ سکمز نے لوگوں کو خود سے دوائیں لینے اور خاص طور پر بلا ضرورت اینٹی بایوٹک استعمال کرنے سے بھی خبردار کیا ہے، کیونکہ اس سے ادویات کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔










