نئی دہلی/ ایجنسیز // سپریم کورٹ میں اتوار کو دو درخواستوں پر خصوصی سماعت ہوگی جو آج جنتر منتر احتجاج کیدوران پولیس کی کارروائیوں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ ایک درخواست میں توہین عدالت کے دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود حکومت کی جانب سے میٹرو ٹرینوں کو بند کردیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ دوسری درخواست حبس بیجا میں رکھنے کی ہے جس میں احتجاج میں شامل ہونے والے اپوزیشن قائدین ‘ وکلاء اور صحافیوں کی گرفتاری اور حراست کے خلاف دائر کی گئی ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل ایک بنچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گی ۔ ایک درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت نے عدالت کی ہدایت کے باوجود دہلی میٹرو کے اسٹیشنںو کو بند رکھا تھا اور ٹرینوں کی آمد و رفت کو محدود کریا گیا تھا ۔ دوسری درخواست میں اپوزیشن قائدین کی احتیاطی گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ایڈوکیٹ شیلیندر مانی ترپاٹھی نے توہین عدالت کید رخواست دائر کی ہے اور انہوں نے معتمد داخلہ گوند موہن ‘ دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار اور دہلی میٹرو کے صدر نشین ڈی تھارا کو ملزم بنایا ہے ۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ عہدیداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے 9 نومبر کو جاری کئے گئے احکام کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکام کی کارروائیاں شہریوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہیں ۔










