دفعہ70 3کے خاتمہ کے بعد جموں کشمیر میںامن قائم، علیحدگی پسند اور دہشت گردوں کی کمر ٹوڑ دی / راجناتھ سنگھ
سرینگر / این این بی // ملک کے مسلح افواج کو ملک کو درپیش خطرات کا فیصلہ کن اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل آزادی اور ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے اپنے علاقے میں کارروائی کرنے کی بھی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت امن کا خواہاں ہے، تاہم امن کو کمزوری سمجھنے کی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دشمن عناصر نے بھارت کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے، جن میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنا، بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا، تشدد اور دہشت گردی کو فروغ دینا اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ان تمام مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گمراہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں واپس لانے، بازآبادکاری اور انتہاپسندی سے دور کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے اور نوجوانوں کے لیے ترقی، روزگار اور مواقع کے نئے راستے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دفاعی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک اور آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا گیا کہ بھارت اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔راجناتھ سنگھ نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ’’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت کے مطابق سخت فیصلے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ دشمن عناصر نے آپریشن سندور کے دوران مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر بھارتی معاشرے میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم ملک کے عوام نے ان سازشوں کو مسترد کرتے ہوئے اتحاد، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت امن پر یقین رکھتا ہے اور کسی ملک کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا جنگ مسلط کرنے کی خواہش نہیں رکھتا، تاہم امن اور کمزوری میں واضح فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خوف سے پیدا ہونے والے امن کو قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے لڑی جانے والی جنگ ایک مختلف نوعیت رکھتی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر کوئی ملک بھارت کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے تو ایسے ملک کے ساتھ مذاکرات کے بجائے دفاعی افواج اسے مناسب اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔ انہوں نے اس عزم کو بھارت کی موجودہ فعال دفاعی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا۔وزیر دفاع نے جدید جنگی منظرنامے میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب جنگ صرف زمین، سمندر اور فضا تک محدود نہیں رہی بلکہ خلائی اور سائبر شعبے بھی تنازعات کے نئے میدان بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز، خودکار نظام اور جدید درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں جیسی ٹیکنالوجیز نے میدان جنگ کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی دفاعی حکمت عملی اور سلامتی کے نظام کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ بھارت کا مقصد جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری میں خود انحصاری حاصل کرنا اور جدید ترین نظام ملک کے اندر ہی تیار کرنا ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی دفاعی پالیسی اب محض ردعمل تک محدود نہیں رہی بلکہ فعال اور پیشگی اقدامات پر مبنی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی حکمت عملی اور قیادت کے نتیجے میں بھارت 2016 میں میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کا رکن بنا، جس سے براہموس میزائل کی صلاحیت اور رینج میں اضافے کی کوششوں کو تقویت ملی۔ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران براہموس میزائل کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔دفاعی شعبے میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی پیداوار بڑھانے اور آرڈیننس فیکٹریوں میں اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں بھارت دفاعی پیداوار کے میدان میں زیادہ خود کفیل اور خود اعتماد ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے مطابق 2014 سے قبل ملک کی دفاعی پیداوار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 1.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں بھارت کی دفاعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ تقریباً 56 گنا بڑھ کر 38 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ وزیر دفاع نے ان اعداد و شمار کو حکومت کی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ پالیسی اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔










