نئے لیبر کوڈ کے تحت ملازمین کیلئے ایک بڑی خوشخبری !!!

نئے لیبر کوڈ کے تحت ملازمین کیلئے ایک بڑی خوشخبری !!!

21 ہزار روپے تک ماہانہ اجرت والے ملازمین کو 20 فیصد تک بونس ملے گا

سرینگر/ٹی ای این / نئے لیبر کوڈ کے تحت ماہانہ 21 ہزار روپے تک اجرت حاصل کرنے والے ملازمین کیلئے بونس سے متعلق اہم ضابطے سامنے آئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اہل ملازمین کو سالانہ کم از کم 8.33 فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ 20 فیصد تک بونس مل سکتا ہے، تاہم اس کیلئے مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔وزارت محنت و روزگار کی جانب سے جاری دو نوٹیفکیشنز کے مطابق ماہانہ 21 ہزار روپے تک اجرت حاصل کرنے والے ملازمین قانونی بونس کے حقدار ہوسکتے ہیں، جبکہ 21 ہزار روپے سے زیادہ ماہانہ اجرت لینے والے ملازمین کیلئے اس قانون کے تحت بونس کی ادائیگی لازمی نہیں ہوگی۔ماہرین کے مطابق اجرت 21 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہ ہونے کے علاوہ ملازم کیلئے ضروری ہے کہ اس نے متعلقہ حسابی سال کے دوران کم از کم 30 دن کام کیا ہو۔ جے ایس اے ایڈووکیٹس اینڈ سولیسٹرز کی پارٹنر بھاویا سری رام کے مطابق ’کوڈ آن ویجز 2019‘ کی دفعہ 26(1) کے تحت مذکورہ شرائط پوری کرنے والا ملازم قانونی بونس کا حقدار ہے۔بونس کا حساب کیسے ہوگا؟َنئے ضابطے کے تحت بونس کا حساب ملازم کی اصل ماہانہ اجرت پر لازماً نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے ماہانہ 7 ہزار روپے یا متعلقہ کم از کم اجرت، جو بھی زیادہ ہو، اسے حساب کی بنیاد بنایا جائے گا۔مثلاً اگر کسی ملازم کی ماہانہ اجرت 15 ہزار روپے ہے اور اس کے کام کیلئے متعلقہ ریاست میں مقررہ کم از کم اجرت 10 ہزار روپے ہے تو بونس کا حساب 15 ہزار روپے کے بجائے 10 ہزار روپے ماہانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔اس صورت میں کم از کم 8.33 فیصد بونس کے حساب سے سالانہ بونس تقریباً 9,996 روپے بنتا ہے۔اسی طرح اگر کسی ملازم کی ماہانہ اجرت 20 ہزار روپے ہے جبکہ اس کے زمرے کیلئے مقررہ کم از کم اجرت 9 ہزار روپے ماہانہ ہے تو بونس کا حساب 9 ہزار روپے پر کیا جائے گا، کیونکہ یہ رقم 7 ہزار روپے کی مقررہ حد سے زیادہ ہے۔اس مثال میں 8.33 فیصد کی کم از کم شرح کے مطابق سالانہ بونس تقریباً 8996 روپے بنتا ہے۔ اگر ادارے کا قابل تقسیم فاضل منافع مکمل 20 فیصد بونس کی اجازت دیتا ہو تو یہی بونس سالانہ 21600 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔بونس کی زیادہ سے زیادہ حد 20 فیصدَنئے ضابطے کے تحت اہل ملازمین کیلئے قانونی بونس کی کم از کم شرح 8.33 فیصد اور زیادہ سے زیادہ شرح 20 فیصد ہے۔ تاہم 20 فیصد بونس ہر ملازم کیلئے لازمی نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار متعلقہ ادارے کے قابل تقسیم فاضل منافع اور قانون میں مقررہ دیگر شرائط پر ہوگا۔ماہرین کے مطابق قانون کا مقصد ایک طرف ملازمین کو بونس کا قانونی حق فراہم کرنا اور دوسری طرف آجروں پر بونس کی ادائیگی کا بوجھ ایک مقررہ حد تک محدود رکھنا ہے۔ اسی وجہ سے بونس کے حساب کیلئے اصل اجرت کے بجائے مقررہ حسابی حد استعمال کی جاتی ہے۔بونس کب تک ادا کرنا ہوگا؟’کوڈ آن ویجز 2019‘ کی دفعہ 39(1) کے مطابق ملازم کو واجب الادا بونس حسابی سال کے اختتام کے بعد آٹھ ماہ کے اندر اس کے بینک کھاتے میں جمع کرانا ہوگا۔تاہم اگر آجر مناسب وجوہات کے ساتھ مدت میں توسیع کیلئے درخواست دے تو یہ مدت زیادہ سے زیادہ دو سال تک بڑھائی جاسکتی ہے۔اگر بونس کی ادائیگی پر کوئی تنازع ہو اور معاملہ متعلقہ اتھارٹی کے سامنے زیر سماعت ہو تو بونس کی ادائیگی کیلئے الگ ضابطہ موجود ہے۔ تنازع کا فیصلہ یا تصفیہ نافذ ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر واجب الادا رقم ادا کرنا ہوگی۔اگر تنازع صرف 8.33 فیصد سے زیادہ بونس کی شرح سے متعلق ہو تو آجر کو کم از کم 8.33 فیصد بونس مقررہ آٹھ ماہ کی مدت کے اندر ادا کرنا ہوگا۔ صرف اضافی متنازع رقم فیصلہ ہونے تک روکی جاسکتی ہے۔بونس ادا نہ کرنے پر کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟اگر آجر قانونی طور پر واجب الادا بونس ادا نہیں کرتا تو ملازم رقم کی وصولی کیلئے متعلقہ سرکاری اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔ ’کوڈ آن ویجز 2019‘ کی دفعہ 45 کے تحت ملازم، رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا انسپکٹر کم فیسیلیٹیٹر بونس کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست دے سکتا ہے۔ایک ہی ادارے کے متعدد ملازمین بھی مشترکہ طور پر دعویٰ دائر کرسکتے ہیں۔ عام طور پر یہ دعویٰ اس تاریخ سے تین سال کے اندر دائر کیا جاسکتا ہے جس تاریخ کو رقم واجب الادا ہوئی تھی۔ تاہم مناسب وجہ موجود ہونے کی صورت میں تاخیر سے دائر کیا گیا دعویٰ بھی متعلقہ اتھارٹی قبول کرسکتی ہے۔متعلقہ اتھارٹی آجر کو واجب الادا بونس ادا کرنے کا حکم دے سکتی ہے اور دعوے کی رقم کے 10 گنا تک معاوضہ بھی مقرر کرسکتی ہے۔اگر اتھارٹی کے حکم کے باوجود آجر رقم ادا نہیں کرتا تو وصولی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاسکتا ہے اور واجب الادا رقم کو اراضی کے بقایا جات کی طرح وصول کیا جاسکتا ہے۔قانون کی دفعہ 54(1)(a) کے تحت واجب الادا بونس سے کم رقم ادا کرنے والے آجر پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ اسی نوعیت کا جرم پانچ سال کے اندر دوبارہ کرنے کی صورت میں تین ماہ تک قید، ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔اس طرح نئے لیبر کوڈ کے تحت 21 ہزار روپے تک ماہانہ اجرت لینے والے اور سال کے دوران کم از کم 30 دن کام کرنے والے ملازمین کیلئے بونس کا قانونی حق برقرار رکھا گیا ہے، جس کی کم از کم شرح 8.33 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 20 فیصد مقرر ہے۔ تاہم بونس کی اصل رقم کا تعین مقررہ حسابی اجرت، کم از کم اجرت اور ادارے کے قابل تقسیم فاضل منافع سمیت متعلقہ قانونی شرائط کے مطابق کیا جائے گا۔