آٹھویں پے کمیشن میں پنشن نظرثانی پر وضاحت کی درخواست

پنشنرز تنظیم نے وزیر اعظم مودی سے رجوع کرلیا

سرینگر//ٹی ای این / آٹھویں مرکزی پے کمیشن کے تحت پنشن میں نظرثانی کے معاملے پر ابہام دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے خاص طور پر ان مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے مفادات کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے جو یکم جنوری 2026 سے قبل ریٹائر ہوچکے ہیں۔تنظیم نے وزیر اعظم کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ آٹھویں پے کمیشن کے دائرہ کار یا شرائطِ کار میں واضح طور پر یہ درج کیا جانا چاہئے کہ سابق ملازمین کی پنشن اور خاندانی پنشن میں بھی نظرثانی کی جائے گی۔ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق یکم جنوری 2026 سے پہلے ریٹائر ہونے والے مرکزی سرکاری ملازمین اس بات کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا آٹھواں پے کمیشن ان کی موجودہ پنشن اور خاندانی پنشن پر بھی غور کرے گا یا نہیں۔تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پے کمیشن کی شرائطِ کار میں مناسب ترمیم کرکے موجودہ پنشنرز اور خاندانی پنشنرز کو واضح طور پر اس عمل میں شامل کیا جائے، تاکہ کسی بھی طبقے کو نظرانداز ہونے کا خدشہ نہ رہے۔پنشنرز تنظیموں کی جانب سے اس سے قبل بھی حکومت سے پنشن نظرثانی، پنشن برابری اور ریٹائرمنٹ سے متعلق دیگر فوائد کو آٹھویں پے کمیشن کے دائرہ کار میں واضح طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔پنشنرز تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ آٹھویں پے کمیشن کی سفارشات کے تحت پنشن اور خاندانی پنشن میں نظرثانی کیلئے یکم جنوری 2026 کو مؤثر تاریخ تصور کیا جائے گا یا نہیں۔ان تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ پنشنرز اور خاندانی پنشنرز کو بھی نظرثانی شدہ فوائد اسی وقت فراہم کئے جائیں جب خدمات انجام دینے والے مرکزی سرکاری ملازمین کیلئے نئی تنخواہ اور الاؤنسز کا نظام نافذ کیا جائے۔پنشنرز تنظیموں نے ماضی میں ریٹائر ہونے والے ملازمین اور مستقبل میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے درمیان پنشن کے معاملے میں برابری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ پے کمیشن کے تحت صرف موجودہ ملازمین کی تنخواہوں کا جائزہ کافی نہیں بلکہ پہلے سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن، خاندانی پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہئے۔تنظیموں نے اولڈ پنشن اسکیم، قومی پنشن نظام اور یونیفائیڈ پنشن اسکیم کے تحت آنے والے پنشنرز کے مفادات کو بھی مناسب طور پر دیکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آٹھواں مرکزی پے کمیشن مرکزی سرکاری ملازمین، پنشنرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ مشاورتی اجلاسوں میں تنخواہوں، پنشن، الاؤنسز اور ملازمین سے متعلق دیگر معاملات پر تجاویز حاصل کی جارہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے پے کمیشن کی سفارشات کی حتمی منظوری اور عمل درآمد سے قبل مختلف فریقوں کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ اس لئے پنشنرز تنظیموں کی جانب سے موجودہ پنشنرز کو واضح طور پر دائرہ کار میں شامل کرنے کا مطالبہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔پنشنرز تنظیم نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ وزارتوں اور آٹھویں پے کمیشن کو ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ یکم جنوری 2026 سے قبل ریٹائر ہونے والے مرکزی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے پنشن حقوق کے بارے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔