آر آر ای ٹیز، گریڈ دوم و سوم اساتذہ کیلئے مجوزہ تبادلہ پالیسی جاری

تین سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تبادلے کیلئے اہلیت

سرینگر/یو این ایس / محکمہ اسکول ایجوکیشن نے رہبرِ تعلیم اساتذہ (آر آر ای ٹیز)، گریڈ دوم اور گریڈ سوم اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے ایک جامع مسودہ پالیسی جاری کرتے ہوئے عوام اور متعلقہ حلقوں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی ہیں۔ مجوزہ پالیسی میں اساتذہ کیلئے ایک مقام پر تین سالہ مدتِ تعیناتی مکمل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسی بھی استاد کو ایک ہی مقام پر پانچ سال سے زیادہ برقرار رکھنے کی تجویز نہیں دی گئی ہے۔محکمے کے مطابق مجوزہ پالیسی کا مقصد ضرورت کی بنیاد پر اور طلبہ مرکز تبادلے، تدریسی عملے کی معقول تقسیم اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ پالیسی میں آر آر ای ٹیز، گریڈ دوم اور گریڈ سوم اساتذہ کے درمیان تبادلوں کے واضح اصول وضع کیے گئے ہیں، جبکہ جنرل لائن ٹیچرز اور رہبرِ تعلیم اساتذہ کے درمیان تبادلے پر پابندی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ پالیسی کے تحت کسی بھی آر آر ای ٹی استاد کو موجودہ مقام پر تین سال مکمل کرنے سے قبل عام حالات میں دوسرے مقام پر تبادلے کیلئے زیر غور نہیں لایا جائے گا۔ تاہم ہمدردانہ بنیادوں اور دیگر غیر معمولی حالات میں اس اصول سے استثنیٰ دیا جا سکے گا۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی استاد عام طور پر ایک مقام پر پانچ سال سے زیادہ تعینات نہیں رہے گا۔ زیادہ سے زیادہ مدت مکمل ہونے کے بعد انتظامی ضرورت کے پیش نظر متعلقہ استاد کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔محکمہ نے تبادلوں کیلئے سالانہ تبادلہ مہم شروع کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جو ترجیحاً تعلیمی سال کے اختتام اور نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل منعقد کی جائے گی تاکہ تدریسی سرگرمیوں میں کم سے کم خلل پڑے۔ دورانِ تعلیمی سال تبادلے عام طور پر نہیں کیے جائیں گے، تاہم سنگین طبی وجوہات، سلامتی سے متعلق خدشات یا اہم انتظامی ضرورت کی صورت میں اس سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔مسودہ پالیسی میں تبادلوں کو انتظامی تبادلے، باہمی تبادلے، سلامتی سے متعلق تعیناتی اور ہمدردانہ بنیادوں پر تبادلے کی مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ضلع کے باہر باہمی تبادلے کیلئے ایک ہی کیڈر، تعلیمی قابلیت، مضمون اور حیثیت رکھنے والے اساتذہ کے درمیان تبادلے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم اس کیلئے متعلقہ مجاز اتھارٹی کی تصدیق اور منظوری لازمی ہوگی۔ ایسے تبادلے عام طور پر سابقہ تبادلے کے دو سال مکمل ہونے سے قبل نہیں کیے جائیں گے۔ضلع سے باہر باہمی تبادلے کی صورت میں اساتذہ اپنے آبائی اضلاع میں سروس پر حق اور ترقی کے مواقع برقرار رکھ سکیں گے۔پالیسی میں سنگین ذاتی اور خاندانی حالات سے دوچار اساتذہ کیلئے خصوصی رعایت کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ جان لیوا بیماری، معذوری، بیوگی، واحد والدین ہونے اور میاں بیوی کو ایک جگہ تعینات کرنے سے متعلق معاملات کو ہمدردانہ بنیادوں پر زیر غور لایا جائے گا۔ خاص طور پر ایسے سرکاری ملازمین کے معاملات پر توجہ دی جائے گی جن کے میاں یا بیوی مختلف علاقوں میں سرکاری ملازمت انجام دے رہے ہوں۔سلامتی سے متعلق تعیناتیوں پر انتظامی محکمہ مقررہ طریقہ کار کے تحت فیصلہ کرے گا۔ اس کے علاوہ کلسٹر سربراہان کو ہدایت دی جائے گی کہ ہمدردانہ یا سلامتی کی بنیاد پر کسی استاد کی تعیناتی تبدیل ہونے کی صورت میں اسکول کے تدریسی نظام کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے اندرونی انتظامات کیے جائیں۔مجوزہ پالیسی میں ریزروڈ زمروں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ ان کے تبادلے کے عمل کے دوران ریزرویشن پالیسی کے تحت لازمی قیام کی مدت پوری ہونے کو یقینی بنایا جائے گا۔تبادلے کے احکامات جاری ہونے کے بعد شکایات کے ازالے کیلئے جوائنٹ ڈائریکٹر کی سطح پر 10 دن کی مدت مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق کسی ملازم کا ایک تبادلے کے دو سال کے اندر دوبارہ تبادلہ عام حالات میں نہیں کیا جائے گا، تاہم اہم انتظامی ضرورت کی صورت میں اس اصول سے استثنیٰ ممکن ہوگا۔محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنے والے ملازمین کو عام طور پر تبادلے کیلئے زیر غور نہیں لایا جائے گا، البتہ تحقیقات یا انتظامی مفاد میں ان کا تبادلہ ضروری ہونے کی صورت میں ایسا کیا جا سکے گا۔مسودہ پالیسی میں ان آر آر ای ٹیز کیلئے بھی خصوصی شق شامل کی گئی ہے جنہیں ابھی باقاعدہ حیثیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ایسے اساتذہ اپنی ابتدائی تعیناتی کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اصل مقام یا زون میں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ تاہم جب کسی آر آر ای ٹی کو باقاعدہ حیثیت حاصل ہو جائے یا اسے گریڈ دوم یا گریڈ سوم استاد کے طور پر تعینات کیا جائے تو وہ مجوزہ تبادلہ پالیسی کے مکمل دائرے میں آ جائے گا۔محکمہ نے آر آر ای ٹیز، گریڈ دوم، گریڈ سوم اور جنرل لائن ٹیچرز کے درمیان واضح تفریق برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ مسودے کے مطابق آر آر ای ٹیز کا تبادلہ آر آر ای ٹیز کے ساتھ، گریڈ دوم کا گریڈ دوم کے ساتھ اور گریڈ سوم کا گریڈ سوم کے ساتھ کیا جائے گا۔ جنرل لائن ٹیچرز اور رہبرِ تعلیم اساتذہ کے درمیان کسی بھی قسم کے تبادلے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم ان اساتذہ کو استثنیٰ حاصل ہوگا جو پہلے ہی باقاعدہ اور مستقل آسامیوں کے ساتھ منتقل اور ایڈجسٹ کیے جا چکے ہیں۔مجوزہ پالیسی کے تحت تبادلوں کے بعض اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ بین الضلعی تبادلوں پر انتظامی محکمہ کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ ایک ہی زون کے اندر تبادلے متعلقہ زونل ایجوکیشن افسر، چیف ایجوکیشن افسر کی منظوری کے بعد جاری کرے گا۔ ضلع کے اندر ایک زون سے دوسرے زون میں تبادلے متعلقہ چیف ایجوکیشن افسر، جوائنٹ ڈائریکٹر کی منظوری کے بعد کرے گا۔بین الضلعی تبادلے اور تعیناتیاں صرف انتظامی محکمہ کی جانب سے متعلقہ ڈائریکٹر کی سفارشات کی بنیاد پر جاری کی جائیں گی۔محکمہ نے تجویز دی ہے کہ اس پالیسی کا ہر پانچ سال بعد جائزہ لیا جائے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس سے قبل بھی اس میں ترمیم کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ اساتذہ کی تعیناتی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے کر عملے کی معقول تقسیم اور پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔