’میڈی ایشن فارنیشن 3.0 کے تحت جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی میں ریفرل ججوں کی تربیت کا اِنعقاد

’میڈی ایشن فارنیشن 3.0 کے تحت جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی میں ریفرل ججوں کی تربیت کا اِنعقاد

ریفرل ججز اِنصاف کے نظام کے محافظ ہیں، انہیں صحیح مقدمہ صحیح وقت پر ریفر کرنا چاہیے۔ جسٹس رجنیش اوسوال

سری نگر// جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی میڈی ایشن اینڈ کنسیلی ایشن کمیٹی (ایم سی سی) کے زیراہتمام سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں’ میڈی ایشن فار دی نیشن 3.0 ‘ مہم کے تحت آج جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی سری نگر میں ریفرل ججوں کے لئے ایک روزہ تربیتی پروگرام کا اِنعقاد کیا گیا۔جسٹس رجنیش اوسوال نے اِفتتاحی خطاب میں شرکأ سے خطاب کرتے ہوئے اس پروگرام کو ایک مرکوز ’جوڈیشل ماسٹر کلاس‘ قرار دیاجس کا مقصد ریفرل ججوں کو مؤثرمقدمات ریفرل کے لئے عملی ٹولز سے آراستہ کرنا ہے ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ثالثی زِندگی کے تمام شعبوں میں اہمیت رکھتی ہے اور اِنصاف کی فراہمی کے نظام میں ریفرل ججوں کے اہم کردار کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے انہیں انصاف کی فراہمی کے نظام کے بنیادی ’’محافظ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذِمہ داری ہے کہ وہ ایسے تنازعات کی نشاندہی کریں جو باقاعدہ عدالتی فیصلے کے بجائے ثالثی کے ذریعے زیادہ بہتر طور پر حل کئے جا سکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ثالثی مفادات پر مبنی طریقۂ کاراَپناتی ہے جو فریقین کو بالخصوص پیچیدہ اِنسانی او رتجارتی تنازعات میں تیزتر، رازداری پر مبنی اور باہمی تعلقات کو برقرار رکھنے والے حل فراہم کرتی ہے۔اُنہوںنے متنبہ کیا کہ ریفرل ججوںکو احتیاط سے عدالتی جانچ پڑتال کرنی چاہئے تاکہ مناسب مقدمات ہی ثالثی کے لئے ریفر کئے جائیں اور غیر موزوں معاملات کو ریفر نہ کیا جائے۔ اُنہوں نے تجارتی، اَزدواجی، خاندانی، جائیداد، پڑوس اور موزوں چیک ڈس آنر کے مقدمات کو ثالثی کے لئے اچھی صلاحیت رکھنے والے قرار دِیا۔ اُنہوں نے طاقت کے عدم توازن، پہلے سے طے شدہ قانونی اصول، سنگین دھوکہ دہی یا فوری عدالتی مداخلت کے حامل مقدمات میں احتیاط برتنے پر زور دیا۔اُنہوں نے مدعیان کو ثالثی اختیار کرنے کی ترغیب دینے میں عدالتی رابطے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صحیح مقدمے کو صحیح فورم پر صحیح وقت پر ریفر کرنے سے مقدمات کے بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے، فریقین کا وقت اور اخراجات بچائے جا سکتے ہیں اور اِنصاف کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اِس سے قبل ڈائریکٹرجموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی نصیر احمد ڈار نے تعارفی خطبہ پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ثالثی منصفانہ، تیز رفتار اور کم خرچ انصاف کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ثالثی تنازعات کو مخالفانہ مقابلوں سے بات چیت اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے عمل میں بدل دیتی ہے۔ اُنہوں نے مناسب مقدمات کی نشاندہی کرنے، بروقت اورسوچ سمجھ کر ریفرل، فریقین او روکلأ کو ثالثی کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور ثالثی کے عمل میں بامعنی شرکت کو یقینی بنانے میں ریفرل ججوں کے کلیدی کردار پر زور دیا۔دن کے تکنیکی سیشنوں کا اِنعقاد سابق جج جموںوکشمیر ہائی کورٹ بشیر احمد کرمانی نے منعقد کیا ۔اُنہوں نے متبادل تنازعات کے حل (اے ڈِی آر) کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی بالخصوص ضابطہ دیوانی، 1908 کی دفعہ 89 کے حوالے سے اوراے ڈِی آر کے مختلف طریقوں پر بات کی۔دوسرے سیشن میں اُنہوں نے ریفرل ججوں کے عملی کردار پر توجہ مرکوز کی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ عدالتی اَفسران کو یہ فیصلہ کرتے وقت مناسب صوابدید سے کام لینا چاہیے کہ کون سا مقدمہ اور کس مرحلے پراے ڈِی آر کے لئے ریفر کیا جانا چاہیے۔جسٹس بشیر احمد کرمانی نے ریفرل کے مناسب مرحلے، فریقین کی رضامندی، ثالثی کے لئے موزوں مقدمات کی شناخت اور مقدمے کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کی اہمیت پر بات کی۔ اُنہوں نے وُکلا اور فریقین کو ثالثی کے لئے آمادہ کرنے اور تیار کرنے، مناسب ریفرل احکامات مرتب کرنے اور ثالثی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت کی ذِمہ داریوں کو سمجھنے میں جج کے کردار کو بھی اُجاگر کیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض کوآرڈی نیٹر مین میڈی ایشن سینٹر (رجسٹرار رولز ) جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ فیضان الحق اقبال نے انجام دئیے۔ پروگرام کے دوران مسلسل باہمی استفساراور عملی شرکت کا ماحول برقرار رہا۔ عدالتی افسران نے ریفرل ججوں کے لئے رہنما اصولوں اور کیا کریں اور کیا نہ کریں چیک لسٹ سے متعلق مباحث میں بھرپور حصہ لیا۔ان مباحث نے تجربات کے تبادلے اور ثالثی کے لئے بروقت، باخبر اور مناسب حوالہ جات سے متعلق مسائل پر غور کرنے کے لئے ایک عملی پلیٹ فارم فراہم کیا۔