3 نومبر کو سری نگر لوک سبھا نشست سے استعفیٰ دیں گے

3 نومبر کو سری نگر لوک سبھا نشست سے استعفیٰ دیں گے

ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ کا اعلان،’یہ فیصلہ پارٹی قیادت سے نظریاتی اختلافات کے باعث کیا ہے‘

سری نگر//یو این ایس / سری نگر لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے نیشنل کانفرنس کی بنیادی رکنیت اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ پارٹی قیادت کے ساتھ نظریاتی اختلافات کے باعث کیا ہے۔آغا روح اللہ نے کہا ہے کہ وہ 3 نومبر کو لوک سبھا اسپیکر اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ 3 نومبر ان کے والد آغا سید مہدی کی 26ویں برسی بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق آغا روح اللہ نے کہا کہ استعفیٰ پیش کرنے سے قبل انہیں کچھ ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں، جن میں اراکین پارلیمنٹ مقامی علاقائی ترقیاتی اسکیم (ایم پی ایل اے ڈی ایس) کے تحت دستیاب فنڈز کی تقسیم اور سری نگر میں ایک کانفرنس کا انعقاد شامل ہے۔ یہ کانفرنس جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں منعقد کی جائے گی۔آغا روح اللہ اپنے والد کی برسی کے موقع پر بڈگام میں ایک عوامی جلسے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں، جہاں وہ باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ جاری کریں گے اور رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے دستبردار ہونے کی وجوہات عوام کے سامنے رکھیں گے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق آغا روح اللہ نے کہا، ’’ہاں، میں پارٹی سے بھی استعفیٰ دے رہا ہوں اور سری نگر کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے بھی۔‘‘آغا روح اللہ گزشتہ کچھ عرصے سے نیشنل کانفرنس کی قیادت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا بنیادی اعتراض پارٹی کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لیے کیے گئے انتخابی وعدے سے پیچھے ہٹنے پر ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس نے آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے جدوجہد کا وعدہ کیا تھا اور اسے پارٹی کے انتخابی منشور میں بھی شامل کیا گیا تھا، تاہم انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے فوراً بعد پارٹی اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے جسے وہ ’’جھوٹ اور دھوکہ دہی‘‘ قرار دیتے ہیں، اور ان کا سیاسی مؤقف حالات کے مطابق تبدیل نہیں ہوگا۔انہوں نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سمیت نیشنل کانفرنس کی قیادت پر بھی متعدد مواقع پر تنقید کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی قیادت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے اپنے سابقہ مؤقف کو ترک کردیا آغا روح اللہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد وہ سری نگر لوک سبھا نشست پر ہونے والا ضمنی انتخاب آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جب ضمنی انتخابات کا اعلان ہوگا تو میں عوام سے مشاورت کروں گا اور ممکن ہے کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے ضمنی انتخاب میں حصہ لوں۔‘‘آغا روح اللہ کا یہ اعلان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے انہیں سری نگر لوک سبھا نشست سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام سے ووٹ لینے کا چیلنج دیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آغا روح اللہ کے اس دعوے کے جواب میں کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی کامیابی بڑی حد تک ان کی ذاتی ساکھ کا نتیجہ تھی، کہا تھا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے تو وہ استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جائیں اور دیکھیں کہ انہیں کتنے ووٹ ملتے ہیں۔اس کے جواب میں آغا روح اللہ نے اگلے روز کہا تھا، ’’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کچھ مانگیں اور میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے درمیان اختلافات گزشتہ کچھ عرصے سے نمایاں رہے ہیں۔ یہ اختلافات گزشتہ سال بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب کے دوران مزید گہرے ہوئے، جب آغا روح اللہ نے پارٹی امیدوار کے لیے انتخابی مہم چلانے سے انکار کردیا تھا۔ نیشنل کانفرنس یہ انتخاب ہار گئی تھی۔انتخابی شکست کے بعد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آغا روح اللہ کے طرزِ عمل کو ’’سیاسی خودکشی‘‘ قرار دیا تھا۔اگر آغا روح اللہ اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے منظور کرلیا جاتا ہے تو سری نگر لوک سبھا نشست خالی ہوجائے گی اور اس نشست پر ضمنی انتخاب کرانا ہوگا۔