فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کا محکمہ تعلیم کو مکتوب روانہ، 50 میٹر کے اندر سموسہ، چپس، کولڈ ڈرنک کی فروخت اور تشہیر بند
سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر میں اسکولی بچوں کی صحت کو محفوظ بنانے کے لیے فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ایف ڈی اے، جموں و کشمیر نے جموں اور کشمیر کے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کو خط لکھ کر تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (اسکول میں بچوں کے لیے محفوظ خوراک اور متوازن غذا) ریگولیشنز 2020 پر سختی اور موثرانہ عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان ضوابط کا مقصد تعلیمی اداروں کے اندر اور آس پاس محفوظ، حفظان صحت کے مطابق اور غذائیت سے بھرپور متوازن خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا اور اسکولی بچوں کی صحت و تندرستی کا تحفظ کرنا ہے۔مراسلے میں ضابطہ 3(5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسکول اتھارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی شخص اسکول کے احاطے یا کیمپس کے اندر زیادہ سیر شدہ چکنائی، ٹرانس فیٹ، اضافی چینی یا سوڈیم پر مشتمل غذائی مصنوعات (جنک فوڈز) کو فروخت نہ کرے، فروخت کی پیشکش نہ کرے، بشمول مفت فروخت، یا اس کی فروخت کی اجازت نہ دے۔مزید براں، ضابطہ 5(1) کے مطابق کوئی بھی شخص اسکول کیمپس کے اندر یا اسکول گیٹ سے کسی بھی سمت میں 50 میٹر کے دائرے میں اس طرح کی غذائی مصنوعات کی تشہیر، مارکیٹنگ، فروخت یا مفت فروخت کی پیشکش نہیں کرے گا اور نہ ہی اسکولی بچوں کو اس کی فروخت کی اجازت دے گا۔ضابطہ 3(1) کے تحت یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ جہاں اسکول اتھارٹی خود اسکول کیمپس میں اسکولی کھانا فروخت کرتی ہے یا پیش کرتی ہے، یا جہاں فوڈ بزنس آپریٹرز (ایف بی اوز) اسکول کیمپس میں کھانا فروخت کرتے ہیں، وہاں متعلقہ ایف بی اوز کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت رجسٹرڈ یا لائسنس یافتہ ہونا چاہیے اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (فوڈ بزنسز کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن) ریگولیشنز 2011 کے شیڈول 4 کے تحت حفظان صحت کے مقررہ طریقوں پر عمل کرنا ہوگا، ساتھ ہی فوڈ سیفٹی ڈسپلے بورڈ اور فوڈ سیفٹی سپروائزر سے متعلق تقاضوں کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ضوابط میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں میں صحت مند کھانے کی عادات پیدا کرنے کے لیے اسکولوں میں کھانے کے مخصوص اوقات کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام طلباء کو مفت میں محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا بھی یقینی بنایا جائے گا۔ضوابط کے مطابق اسکول اتھارٹی سے مراد ادارے کا سربراہ ہے، جس میں پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر کے ساتھ ساتھ گورننگ باڈی، ٹرسٹ یا اسکول کے انتظام و انصرام کے لیے ذمہ دار کوئی بھی ادارہ شامل ہے۔ اسکول اتھارٹی کا یہ بھی فرض ہوگا کہ وہ فوڈ پریمیسز کا باقاعدہ معائنہ کرنے کا نظام بنائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طلباء کو محفوظ، متوازن اور حفظان صحت کے مطابق خوراک پیش کی جا رہی ہے۔اس مقصد کے لیے اسکول اتھارٹی ایک ہیلتھ اینڈ ویلنس ایمبیسیڈر مقرر کر سکتی ہے یا ایک ہیلتھ اینڈ ویلنس ٹیم تشکیل دے سکتی ہے، جو اسکول میں محفوظ، متوازن اور حفظان صحت والی خوراک کی دستیابی کی نگرانی کے لیے نوڈل میکانزم کے طور پر کام کرے گی۔










