جموں//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج یہاںڈائریکٹورٹ آف ایگری کلچر ل تالاب تلو کے کانفرنس ہال میں محکمہ باغبانی کے جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں گل سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں سلیل گپتا، ڈپٹی ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں (سینٹرل) مکیش شرما،جموں صوبہ کے تمام چیف ہارٹی کلچر اَفسران،چیف کیننگ اِنسٹرکٹر سنجیو کمار کارلوپیا این آر او ستیش کمار،ٹیکنیکل سیکشن کے اَفسران اور محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوف نے جموں صوبہ میں محکمہ باغبانی کی طرف سے عملائی جانے والی مختلف سکیموں اور پروگراموں کی طبعی و مالی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے نچلی سطح پر محکمہ کی تمام سکیموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے پر زور دیاتاکہ مطلوبہ فوائد کسان کمیونٹی تک شفاف اور بروقت پہنچ سکیں۔ اِس موقعہ پر باغبانی کی اہم سکیموں جن میں مرکزی معاونت والی سکیمیں( سی ایس ایس )، جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی )، نظرثانی شدہ ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن، جموں و کشمیر جامع سرمایہ کاری منصوبہ (جے کے سی آئی پی) اور محکمہ کے دیگر جاری پروگرام شامل ہیں، پر تفصیلی بحث و تمحیص کی گئی۔جاوید ڈارنے دیگر اعلیٰ قیمت والی باغبانی فصلوں کے علاوہ ڈریگن فروٹ کے پودے لگانے کی پیش رفت اور دائرہ کار کا بھی جائزہ لیا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لئے فصلوں کے تنوع، جدید باغبانی ٹیکنالوجی کو اَپنانے اور ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کی توسیع و فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔دوران میٹنگ اُنہوںنے مائیکرو اِری گیشن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آبی وسائل کے دانشمندانہ اور مؤثر اِستعمال کو فروغ دیا جا سکے، آبپاشی کے دائرہ کار میں اِضافہ ہو اور پیداواریت و دیرپائی بہتر بنائی جا سکے۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں کوبالخصوص پانی کی قلت سے دوچار علاقوں اور باغبانی کے علاقوں میں مائیکرو اِری گیشن نظام اَپنانے کی ترغیب دیں۔
وزیرموصوف نے بندروں کے خطرے اور اس کے نتیجے میں زرعی و باغبانی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی سنجیدہ نوٹس لیا۔ اُنہوں نے کسانوں کے روزگار اور معاش کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے مربوط اور مؤثر اَقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو کم کرنے اور متاثرہ کسانوں کو راحت فراہم کرنے کے لئے عملی، دیرپااور وقتی اَقدامات کریں۔اُنہوںنے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیں، محکمانہ اَقدامات کے اثرات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری سکیموں کے فوائد مستحق اَفراد تک زمینی سطح پر پہنچیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کو پیداواریت میں بہتری، باغبانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور جموں صوبہ کے کسانوں کے لئے بہتر روزگار کے مواقع کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔اُنہوںنے اَفسران پر زور دیا کہ وہ لگن اور نتائج پر مبنی نقط نظر کے ساتھ کام کریںتاکہ باغبانی کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور کسان کمیونٹی کے مجموعی معاشی استحکام اور بااِختیار بنانے میں مؤثر کردار اَدا کیا جا سکے۔










