2025-26 میں یہ تعداد بڑھ کر 46,491 تک پہنچ گئی/مرکز
سرینگر// جموں و کشمیر میں منشیات کی لت کے علاج کے لیے سرکاری معاونت سے چلنے والے مراکز سے رجوع کرنے والے افراد کی تعداد گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً نو گنا بڑھ گئی ہے۔ مرکزی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے مطابق سال 2021-22 میں جہاں 5,382 افراد کا منشیات کی لت کے لیے علاج کیا گیا، وہیں 2025-26 میں یہ تعداد بڑھ کر 46,491 تک پہنچ گئی۔وزارت کی جانب سے یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں رکن پارلیمنٹ سجاد احمد کچلو کی جانب سے جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال، علاج اور نشہ چھڑانے کی سہولیات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں پیش کیے گئے۔ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق سال 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 46,491 افراد کا منشیات کی لت کے لیے علاج کیا گیا۔ اس سے قبل 2024-25 میں 40,546، 2023-24 میں 36,588، 2022-23 میں 27,843 اور 2021-22 میں 5,382 افراد نے علاج حاصل کیا تھا۔سال 2025-26 کے دوران جموں ضلع میں سب سے زیادہ 9,960 افراد کا علاج کیا گیا، جبکہ سری نگر میں 6,204، کولگام میں 5,765، بانڈی پورہ میں 5,769 اور راجوری میں 5,561 افراد کا علاج ہوا۔ کپواڑہ میں 4,530، پلوامہ میں 3,433 اور بڈگام میں 2,693 افراد نے منشیات کی لت کے علاج کی سہولت حاصل کی۔سرکاری اعداد و شمار سے مختلف اضلاع میں علاج کے معاملات میں نمایاں اضافے کا بھی پتہ چلتا ہے۔ سری نگر میں 2021-22 کے دوران 1,601 افراد کا علاج کیا گیا تھا، جو 2022-23 میں بڑھ کر 7,495 ہوگیا، جبکہ 2025-26 میں یہ تعداد 6,204 رہی۔ اسی طرح جموں میں 2021-22 کے دوران 2,639 افراد کا علاج کیا گیا تھا، جو 2025-26 میں بڑھ کر 9,960 ہوگیا۔تاہم مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان افراد سے متعلق ہیں جنہوں نے سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے محکمے کی معاونت سے چلنے والے مراکز میں علاج حاصل کیا۔ اس لیے ان اعداد و شمار کو جموں و کشمیر میں منشیات کے عادی افراد کی مجموعی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔2018 میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر کی جانب سے ملک میں منشیات کے استعمال کی نوعیت اور پھیلاؤ کے بارے میں کیے گئے قومی سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں 10 سے 75 سال کی عمر کے افراد میں اوپیئڈز استعمال کرنے والوں کی تخمینی تعداد 5.4 لاکھ تھی۔ اسی سروے میں شراب استعمال کرنے والوں کی تعداد 3.9 لاکھ جبکہ بھنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 1.4 لاکھ بتائی گئی تھی۔سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں اوپیئڈز کے استعمال کی شرح 4.91 فیصد، شراب کے استعمال کی شرح 3.50 فیصد اور بھنگ کے استعمال کی شرح 1.31 فیصد تھی۔وزارت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت ایک انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر فار ایڈکٹس، تین آؤٹ ریچ اینڈ ڈراپ اِن سینٹرز، دو کمیونٹی بیسڈ پیر لیڈ انٹروینشن پروگرام، چھ ضلعی نشہ چھڑانے کے مراکز اور 21 ایڈکشن ٹریٹمنٹ سہولیات کی معاونت کی جا رہی ہے۔حکومت کے مطابق یہ مراکز نیشنل ایکشن پلان فار ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن کے تحت کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد منشیات کے استعمال کی روک تھام، عوامی بیداری، بازآبادکاری اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔وزارت نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر سے قومی ٹول فری نشہ چھڑانے کی ہیلپ لائن 14446 پر اب تک 11 ہزار سے زیادہ کالز موصول ہوچکی ہیں۔ یہ ہیلپ لائن ابتدائی مشاورت اور ضرورت کے مطابق علاج و دیگر سہولیات تک رسائی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔’نشا مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت جموں و کشمیر میں اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو منشیات کے نقصانات اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے بیدار کیا جاچکا ہے۔ ان میں 69.14 لاکھ سے زیادہ نوجوان اور 51.20 لاکھ خواتین شامل ہیں۔وزارت کے مطابق جموں و کشمیر میں 8,565 ’نشا مکت متر‘ بھی اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ مہم 2020 میں شروع کی گئی تھی اور بعد میں ملک بھر میں وسعت دی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کی کوششوں کو مضبوط کرنا ہے۔










