جاوید ڈار نے سی آئی ٹی ایچ میں ایک روزہ تربیتی پروگرام کیلئے 250کسانوں کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا

جاوید ڈار نے سی آئی ٹی ایچ میں ایک روزہ تربیتی پروگرام کیلئے 250کسانوں کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا

کہا، جدید ، سائنسی اور دیرپا زرعی طریقوں کو وسیع پیمانے پر اَپنانے کی ضرورت ہے

سری نگر//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے سینٹرل اِنسٹی چیوٹ آف ٹمپریٹ ہارٹی کلچر(سی آئی ٹی ایچ)رنگریٹھ سری نگر میںایک روزہ تربیتی کے لئے کسانوں کے ایک گروپ کو جھنڈی دِکھاکر روانہ کیا جس کا مقصد کسانوں کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور انہیں جدید، سائنسی اور دیرپا زرعی طریقوں سے روشناس کرنا ہے۔اِس موقعہ پر ممبر قانون ساز اسمبلی لال چوک شیخ احسان احمد پردیسی وزیر کے ہمراہ تھے۔جموں و کشمیر کسان ایڈوائزری بورڈ کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام میں تقریباً 250 کسان حصہ لے رہے ہیں۔ پروگرام کے دوران کسان زرعی اور باغبانی کے ماہرین اور سائنسدانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور اَپنے اَپنے علاقوں میں فصلوں کی کاشت میں درپیش مختلف مسائل، چیلنجوں اورفیلڈ سطح کے مسائل پر غور و خوض کریں گے۔وزیر زراعت نے شریک کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے تربیتی پروگرام میں شامل ہونے پر انہیں مُبارک باد دِی اور زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں مسلسل صلاحیت سازی، علم میں اضافے اوراُبھر تی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز سے واقفیت کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کا مقصد کسانوں کو جدید کاشت کاری کی تکنیکوںکے بارے میںعملی اور سائنسی معلومات فراہم کرنا ہے جن میں فصلوں کے بہتر انتظام کے طریقے، کھادوں اور کیڑے مار اَدویات کا متوازن اور منصفانہ اِستعمال، جدید ٹیکنالوجی کو اَپنانا اور دیرپا زرعی طریقوں کو فروغ دینا شامل ہے۔اُنہوں نے ماحولیاتی طور پردیرپا اور قدرتی زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی ساتھ زیادہ پیداوار، بہتر معیار کے فصل اور زرعی کنبوں کے لئے بڑھتی ہوئی منافع کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی۔جاوید ڈار نے کہا کہ حکومت اس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام، تعلیمی دورے اور کسانوں پر مرکوز صلاحیت سازی کے اَقدامات باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں تاکہ کاشتکار کمیونٹی جدید ترین اِختراعات، ٹیکنالوجیز اور بہترین طریقوں سے باخبر رہے۔اُنہوں نے کہا کہ کسانوں کے علم، مہارت اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا زرعی شعبے کی تبدیلی، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے اور کاشتکاری کو زیادہ پیداواری، مضبوط اور دیرپا بنانے کے لئے بہت ضروری ہے۔وزیر زرعی پیداوار نے حصہ لینے والے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقعہ سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں، ماہرین اور سائنسدانوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں، تکنیکی رہنمائی حاصل کریں اور اَپنے کھیتوںکے تجربات اور مسائل کو اشتراک کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کی براہ راست بات چیت سے کاشتکار کمیونٹی کو درپیش چیلنجوں کے عملی اور مقامی سطح پر موزوں حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔اُنہوں نے تحقیقاتی اِداروں، توسیعی ایجنسیوں اور کسانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سائنسی اِختراعات اور ٹیکنالوجیز مؤثر طریقے سے کھیت تک پہنچیں اور کاشتکار کمیونٹی کے لئے حقیقی فوائد میں تبدیل ہوں۔جاوید ڈارنے تربیتی پروگرام کے اِنعقاد پر کسان ایڈوائزری بورڈ اور متعلقہ محکموں کی ستائش کی اور علم، ٹیکنالوجی اور اِدارہ جاتی معاونت کے ذریعے کسانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے مسلسل کوششوںپر زور دیا۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کشمیر، سیکرٹری کسان ایڈوائزری بورڈ، ڈائریکٹر زراعت کشمیر، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایچ پی ایم سی، ڈائریکٹر جے اینڈ کے ہارٹی کلچر مارکیٹنگ اینڈ پروسسنگ اور متعلقہ محکموں کے دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔