لیفٹیننٹ گورنر نے کٹھوعہ میں وائبرنٹ وِلیج کرول کرشنا کا دورہ کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے کٹھوعہ میں وائبرنٹ وِلیج کرول کرشنا کا دورہ کیا

کہا، میں ہمیشہ یہ مانتا ہوں کہ یہ سرزمین ہندوستان کا آخری گائوں نہیں بلکہ ہندوستان کا پہلا گائوں اور گیٹ وے ہے

جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ضلع کٹھوعہ کے سرحدی گاؤں کرول کرشنا کا دورہ کیا۔ کرول کرشنا کے علاوہ رٹھوا، گجر چک، گجنال، بوبیا اور کڈیالہ گاؤں بھی وائبرنٹ وِلیج پروگرام مرحلہ دوم کے تحت آتے ہیں۔ اُنہوں نے مقامی کنبوں کو مختلف سرکاری سکیموں کے فوائد اور نوجوانوں کو تقرری نامے سونپے ۔اُنہوں نے وائبرنٹ وِلیج پروگرام مرحلہ دوم کے تحت شامل چھ اہم سرحدی دیہات کے باشندگان خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی گاؤں ہندوستان کے آخری گاؤں نہیں بلکہ اس کے پہلے گاؤں ہیںجو ملک کی شناخت اور ترقی کی اوّلین صف میں موجود ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ’’سرحد‘‘ کا لفظ دوری کے احساس سے جڑا رہا اور یہ گاؤں حکمرانی کی ترجیحات سے دور رہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں سرحدی دیہات کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’جب ہندوستان کی ترقی کی داستان لکھی جائے گی تو اس کا پہلا باب کرول کرشنا، رٹھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالہ اور گجر چک جیسے گاؤں سے شروع ہونا چاہیے جہاں ہندوستان کی سرحد سانس لیتی ہے اور ترنگا لہراتا ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے 2019 ء سے اب تک کی پیش رفت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ضلع کٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اَب سڑکوں سے منسلک ہیں اور مکمل بجلی کاری بھی ہو چکی ہے۔ ٹیلی مواصلات اور ٹیلی ویژن کی سہولیات جو پہلے محدود تھیں، اب ہر گھر تک پہنچ رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ اعداد و شمار صرف اعداد اور رپورٹس نہیں ہیں بلکہ یہ آپ کی زندگی میں آنے والی حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غربت کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، شہروں کی طرف نقل مکانی نصف رہ گئی ہے اور دیہی آمدنی میں 30 فیصد اِضافہ ہوا ہے۔ روزگار کے مواقع بڑے ہیں اور بے روزگاری پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ سرحدی کنبوںکی حفاظت کے لئے زائد اَز 2,000 س اِنفرادی اورکمیونٹی بنکرز بنائے گئے ہیں۔اُنہوں نے سرحدی معیشتوں کو تبدیل کرنے میں ناری شکتی کے کردار کو بھی سراہا۔ نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے تحت 1,300 سے زائد سیلف ہیلپ گروپس بنائے گئے ہیںجن سے 12,000 سے زیادہ کنبے مستفید ہو رہے ہیں۔ خواتین سلائی، کڑھائی، دستکاری اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہیںجس سے گھریلو اور دیہی دونوں معیشتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔اُنہوں نے سرحدی دیہات کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ میٹرو شہروں کے نوجوانوں کی طرح بڑے خواب دیکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گورنمنٹ سکولوں میں اَب بہتر سہولیات، ڈیجیٹل کلاس رومز، پیشہ ورانہ تربیت اور مکمل تعلیمی سیشن دستیاب ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ نسل در نسل آنے والی تبدیلی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ایک نسلی تبدیلی ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی دیہات کی ترقی کے لئے چار کلیدی حلوں کا خاکہ پیش کیا۔ پہلا خود انحصاری جس کے لئے دیہات کو صرف سڑکوں سے نہیں بلکہ منڈیوں سے بھی جوڑنا اور باغبانی و ڈیری کوآپریٹوز کو فروغ دینا ضروری ہے۔ دوسرا نوجوانوں کو بااِختیار بنانا جس کے لئے زراعت، سیاحت، دفاعی معاونتی خدمات اور دستکاری کے شعبوں میں مواقع پیدا کئے جائیں۔ تیسرا صحت کی بہتر سہولیات جس کے لئے طبی خدمات اور ٹیلی میڈیسن رابطے کو مضبوط کیا جائے۔ چوتھا مضبوط سکیورٹی اِنفراسٹرکچرجس کے لئے سول اِنتظامیہ اورآرمڈ فورسز کے درمیان رابطہ اور تعاون مزید بہتر بنایا جائے۔اُنہوںنے کہا، ’’ترقی اور سلامتی الگ الگ اہداف نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو ستون ہیں۔ صرف ایک محفوظ گاؤں ہی خوشحال گاؤں بن سکتا ہے اور صرف خوشحال گاؤں ہی خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندوستان بنا سکتے ہیں۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کرول کرشنا اور آس پاس کے دیہاتوں اور کنبوں سے اپیل کی کہ وہ اَپنے مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔اُنہوں نے کہا، ’’میں کرول کرشنا، رٹھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالہ اور گجر چک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک آپ کے آباؤ اجداد نے مشکلات کے باوجود اس مٹی کو سنبھالے رکھا۔ اَب اسے آگے لے جانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔ آج وسائل آپ کے ہاتھ میں ہیں اور اگر کہیں بھی کوئی کمی رہ گئی ہے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔ آج بڑا سوال یہ ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ اپنے گاؤں کو کہاں تک لے جائیں گے؟ کیا کرول کرشنا صرف ایک سرحدی گاؤں کے طور پر جانا جائے گا یا ایسے سرحدی گاؤں کے طور پر جس سے ملک کے بہترین نوجوان پیدا ہوں گے؟ اس فیصلے کی ذمہ داری اب نوجوانوں کی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا، ’’میں سرحدی دیہات کے تمام کنبوں کو یہ یقین دِلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ترقی کی روشنی ہر گھر تک پہنچے۔ وائبرنٹ ولیجز پروگرام ایک قومی عزم ہے اور اب ہم سرحدی دیہات کو پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔ آپ ہندوستان کا ’پہلا نام‘ ہیں۔ آپ ملک کا حاشیہ نہیں بلکہ فرنٹ لائن ہیں۔ آپ وہ مقام ہیں جہاں سے ہندوستان نظر آتا ہے اور جب تک ہمارا سپاہی سرحد پر کھڑا ہے اور اس کے پیچھے سرحدی گاؤں مضبوطی سے کھڑے ہیں، ہندوستان مضبوط ہے۔ بھارت ناقابلِ تسخیر ہے۔ ہندوستان لازوال ہے۔‘‘اُنہوں نے لوگوں کی کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پر کٹھوعہ کے لوگوںکو یقین دِلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے فوری کارروائی کی جائے گی۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کرول کرشنا بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) کے دورے کے دوران جوانوں سے بات چیت کی اور ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور آپریشن سندھ کے دوران ان کی غیر معمولی خدمات کے لئے ان کی ثابت قدمی کی ستائش کی۔ اُنہوں نے دشمن کی کسی بھی جارحانہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے مسلسل چوکسی کی ضرورت پر زور دیا۔اِس موقعہ پر ممبر اسمبلی ہیرانگر ایڈووکیٹ وجے کمار، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی محکمہ شالین کابرا،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار، آئی جی پی جموںبھیم سین توتی ، آئی جی بی ایس ایف آصف جلال، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈِی ایم راجو، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ،کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ، کمشنر سیکرٹری منصوبہ بندی و اطلاعات آر ایلس ویز، صوبائی کمشنر جموںرمیش کمار،سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج محمد اعجاز، ایم ڈِی وسی اِی او جے اینڈ کے بینک امیتاوا چٹرجی، ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راجیش شرما،سینئر اَفسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔