ڈاکٹروں کو چوبیس گھنٹے نگرانی اور بہترین ممکنہ طبی نگہداشت یقینی بنانے کی ہدایت
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں کا دورہ کیا اور گزشتہ شام سڑک حادثے میں زخمی ہوئیں طالبات کی صحت کی صورتحال اور انہیں فراہم کئے جارہے علاج کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اُنہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈوں کا معائینہ کیا اور زخمی طالبات سے بات چیت کرکے ان کی خیرو عافیت ،علاج معالجے اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ اُنہوں نے ڈاکٹروں اور ہسپتال اِنتظامیہ سے بھی بات چیت کی اور ہر مریضہ کے زخمیوں کی نوعیت اور کو علاج کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی جانکاری حاصل کی۔وزیر موصوفہ نے جی ایم سی اِنتظامیہ اور طبی ٹیموں کو ہدایت دی کہ تمام زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج، چوبیس گھنٹے نگرانی اور جامع طبی نگہداشت فراہم کی جائے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ زخمی طالبات کی جلد صحتیابی کے لئے تمام ضروری طبی وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اُنہوںنے کہا،’’ہر زخمی طالبہ کی صحت اور بہبود ہماری اوّلین ترجیح ہے۔ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرہ کنبوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ سے کھڑی ہے۔ ان کے بہترین ممکنہ علاج کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن سہولیت فراہم کی جائے گی۔‘‘وزیر صحت سکینہ اِیتونے ڈاکٹروں اور متعلقہ اَفسران کو مزید ہدایت دی کہ شدید زخمی مریضوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جائے اور جہاں بھی ضرورت ہوبروقت طبی اَقدامات یقینی بنائیں۔اُنہوں نے کہا،’’مریضوں کی نگہداشت میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے اور ہر زخمی طالبہ کو فوری اور معیاری علاج فراہم کیا جانا چاہیے بالخصوص ان مریضوں پر خصوصی توجہ دی جائے جو تشویشناک حالت میں ہیں۔‘‘
وزیرصحت نے ہسپتال اِنتظامیہ سے یہ بھی کہا کہ وہ مختلف محکموں کے درمیان مناسب رابطہ و تال میل کو یقینی بنائیں اور زخمیوں کے لئے اَدویات، تشخیصی سہولیات،جراحی کی سہولیات اور دیگر مطلوبہ مدد کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تمام زخمی طالبات جلد از جلد صحتیاب و شفایاب ہوں گی اور یقین دِلایا کہ محکمہ صحت مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر ضروری تعاون فراہم کرے گا۔دورے کے دوران ہسپتال اِنتظامیہ نے وزیرموصوفہ کو زخمی طالبات کے علاج کے اِنتظامات اور ان کی طبی حالت سے آگاہ کیا۔ اِنتظامیہ نے یقین دِلایا کہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی خصوصی ٹیمیں زخمی طالبات کی مسلسل نگہداشت اور علاج میں مصروف ہیں۔










