گورنمنٹ ایشورنس کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈِی اور ایچ یو ڈِی ڈِی کے کام کاج کا جائزہ لیا

گورنمنٹ ایشورنس کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈِی اور ایچ یو ڈِی ڈِی کے کام کاج کا جائزہ لیا

سری نگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی گورنمنٹ ایشورنس کمیٹی نے اسمبلی کمپلیکس میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) اور محکمہ مکانات و شہری ترقی(ایچ یو ڈِی ڈِی)کے کام کاج کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین علی محمد ساگر نے کی ۔میٹنگ میں کمیٹی کے اراکین ممبرقانون ساز اسمبلی غلام محی الدین میر،رُکن اسمبلی افتخار احمد،ممبراسمبلی وحید الرحمان پرہ اور ایم ایل اے شبیر احمد کلے نے شرکت کی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری ایچ یو ڈِی ڈِی مندیپ کور،کمشنر ایس ایم سی فضل الحسیب؛ کمشنر جے ایم سی دیونش یادو، وائس چیئرمین ایل سی ایم اے،جے ڈِی اے اوروائس چیئرمین ایس ڈِی اے ، سیکرٹری جے کے ایل اے منوج کمار پنڈتااور اسمبلی سیکرٹریٹ کے اَفسران بھی موجود تھے۔دورانِ میٹنگ کمیٹی نے سال 2026-27 کے لئے روڈ سیکٹر کے تحت حلقہ وار فنڈز مختص کرنے پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ کمیٹی نے جموں و کشمیر میں یو ٹی کیپکس بجٹ نبارڈ کے تحت کاموں اور پی ایم جی ایس وائی منصوبوں کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔چیئرمین علی محمد ساگر نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ کہ ترقی جموں و کشمیر کے ہر کونے تک بغیر کسی تعصب کے پہنچنی چاہیے اور محکموں کو ہدایت دی کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے سری نگر میں پانی جمع ہونے کے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے محکمہ مکانات و شہری ترقی کو ہدایت دی کہ نکاسی آب مسائل کے حل کے لئے تفصیلی ایکشن ٹیکن رِپورٹس (اے ٹی آرز) پیش کی جائیں اور اگلے سیزن کے آغاز سے قبل نکاسی آب کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک وقتی ایکشن پلان پیش کریں۔علی محمد ساگر نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اَفسران کے تجربے اور اِدارہ جاتی علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایسے تجربہ کار اِنجینئران اور منتظمین موجود ہیں جو مقامی خطوں، موسمی چیلنجوں اور عوامی ضروریات کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ اس وسیع تجربے کو تمام ترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری میں معیار، دیرپائی اور شفافیت یقینی بنانے کے لئے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کمیٹی کے تمام اَراکین کو یہ ذِمہ داری سونپی گئی ہے کہ ترقیاتی عمل نچلی سطح تک پہنچے اور تمام منصوبوں کو وزیر اعظم کے ’وِکست بھارت 2047@‘ کے ویژن کے مطابق شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ قانون ساز اِدارے اور اِنتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل جوابدہ طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کی کلید ہے۔