amit shah

جموں و کشمیر میں تعاونی اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا

708 ’پی اے سی ایس‘ کی کمپیوٹرائزیشن منظور، 537 ’ای،پی اے سی ایس‘ فعال// وزیر داخلہ امت شاہ

سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ و وزیر تعاون امت شاہ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں تعاونی اداروں کی مالی، انتظامی اور عملی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ان اداروں کی کارکردگی اور پائیداری میں اضافہ کیا جا سکے۔امت شاہ نے راجیہ سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ست پال شرما کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ 15 جولائی 2026 تک جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 1611 نئی کوآپریٹو سوسائٹیاں رجسٹر کی گئی ہیں۔ ان میں 232 کثیر المقاصد پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز 1339 ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز اور 40 فشریز کوآپریٹو سوسائٹیز شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ 760 پہلے سے موجود ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز اور ایک فشریز کوآپریٹو سوسائٹی کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ غیر فعال کوآپریٹو سوسائٹیوں کی بحالی متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم وزارت تعاون ان کی استعداد بڑھانے اور انہیں فعال بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 24 جنوری 2025 کو وزارت تعاون نے “کوآپریٹو رینکنگ فریم ورک” متعارف کرایا، جس کے تحت آڈٹ، مالی کارکردگی اور انتظامی صلاحیت جیسے معیارات کی بنیاد پر کوآپریٹو سوسائٹیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ ان کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔مت شاہ کے مطابق وزارت تعاون جموں و کشمیر میں پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹل پروفائلنگ، ماڈل بائی لاز کے نفاذ، نئی کثیر المقاصد، ڈیری اور فشریز کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام، کاروباری سرگرمیوں میں تنوع، صلاحیت سازی اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذیلی دفتر کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون فراہم کر رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق نہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو سردار پٹیل کوآپریٹو ڈیری فیڈریشن لمیٹڈ کے آپریشنل نظام میں بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ دودھ کی منظم خریداری، جدید ڈیری طریقوں کے فروغ اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ مرکز کی سرپرستی میں چلنے والے پی اے سی ایس کمپیوٹرائزیشن منصوبے کے تحت جموں و کشمیر کے 708 پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائزیشن کی منظوری دی گئی ہے۔ 15 جولائی 2026 تک 537 پی اے سی ایس کو ہارڈویئر فراہم کرکے انہیں قومی ای آر پی پلیٹ فارم سے جوڑ دیا گیا ہے اور انہیں ای۔پی اے سی ایس قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی اے سی ایس کے عہدیداروں کو ای آر پی نظام، بہتر حکمرانی، کاروباری منصوبہ بندی، سرکاری اسکیموں سے استفادہ اور کاروباری سرگرمیوں میں تنوع کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔امت شاہ نے کہا کہ دور دراز اور سرحدی علاقوں میں عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے پی اے سی ایس کو کامن سروس سینٹرز بینکاری، انشورنس اور زرعی خدمات کے مراکز کے طور پر بھی فعال بنایا جا رہا ہے، جبکہ قومی سطح کی برآمدات، نامیاتی مصنوعات اور معیاری بیجوں سے متعلق کوآپریٹو اداروں کے ساتھ بھی ان کے روابط قائم کیے جا رہے ہیں۔