چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی عمل آوری کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی عمل آوری کا جائزہ لیا

سر ی نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (ابے بی ڈِی ایم) کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں بالخصوص اس کے مختلف اجزأ کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت ، ڈیجیٹل ہیلتھ سلو شنز کو اَپنانے اور نچلی سطح تک صحت خدمات کی فراہمی پر ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن، منیجنگ ڈائریکٹر اے بی ڈِی ایم جموں و کشمیر، پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر و جموں، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں، محکمہ صحت و طبی تعلیم کے سینئر اَفسران اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔دوران میٹنگ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کا بنیادی مقصد ہر فرد کے لئے جامع ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ تیار کرنا ہے اوراِس بات پر زور دیا کہ مشن کے تحت تمام کوششیں اسی بنیادی مقصد سے ہم آہنگ رہنی چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ اے بی ایچ اے آئی ڈیز اور ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حقیقی کامیابی اس وقت تصور کی جائے گی جب ہر شہری کے لئے مکمل، محفوظ اور باہم مربوط ڈیجیٹل صحت ریکارڈ دستیاب ہوگا۔اَتل ڈولو نے اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مشن حکام کو ہدایت دی کہ وہ ایک واضح نفاذی حکمت عملی وضع کرے جس میں یونین ٹیریٹری بھرمیں الیکٹرانک صحت ریکارڈ کی تخلیق اور ربط کو بتدریج بہتر بنانے کے لئے واضح سنگ میل متعین کئے جائیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہاسپٹل مینجمنٹ اِنفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی عمل آوری تمام صحت اِداروں میں تیز کیا جائے جس میں بنیادی توجہ سرکاری صحت مراکز پر مرکوز رہے تاکہ ہر مریض کا رابطہ جامع ڈیجیٹل صحت ریکارڈ کی تشکیل میں معاون ثابت ہو۔چیف سیکرٹری نے مزید ہدایت دی کہ جموں و کشمیر میں جاری آیوشمان بھارت گولڈن کارڈوں کی تعداد کے مساوی بتدریج اے بی ایچ اے آئی ڈیز بھی تیار کی جائیں اور اس سلسلے میں واضح اہداف مقرر کر کے ان کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ ڈیجیٹل صحت کی ہمہ گیر کوریج حاصل کی جا سکے۔انہوں نے جے کے صحت ایپ کے ذریعے دستیاب شہریوں پر مبنی خدمات کے زیادہ سے زیادہ اِستعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ سے کہا کہ گھر پر طبی نگہداشت، آن لائن ڈاکٹر اپائنٹمنٹ، ٹیلی مشاورت اور مقامی فارمیسیوں کے ذریعے گھر تک اَدویات کی فراہمی جیسی سہولیات کو عوام میں فروغ دیا جائے کیوں کہ یہ خدمات صحت سہولیات تک رَسائی، سہولیت اور معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار اَدا کر سکتی ہیں۔
چیف سیکرٹری نے جے کے صحت ایپ کو ایک جامع ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ نے شہریوں اور طبی ماہرین دونوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بہترین آن لائن پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ اس ایپ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اس کے علمی ذخیرے میں اِضافی تعلیمی مواد، ڈیجیٹل لائبریری اوراَنڈر گریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ طالب علموں کے لئے طبی کورسز شامل کئے جائیں تاکہ یہ صحت خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر تعلیمی اور علمی پلیٹ فارم بھی بن سکے۔چیف سیکرٹری نے محکمہ کو مزید ہدایت دی کہ ڈیجیٹل صحت سے متعلق مختلف منصوبوں کی عمل آوری میں حائل عملی رُکاوٹوں کا جامع جائزہ لیا جائے اور صحت اِداروں، تکنیکی ایجنسیوں اور دیگر شراکت داروں کے اِشتراک سے ان مسائل کو بروقت حل کیا جائے تاکہ مشن کے اہداف مقررہ مدت میں حاصل کئے جا سکیں۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے بتایا کہ جموں و کشمیر نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے نفاذ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک کی نمایاں کارکردگی دکھانے والی ریاستوں اور یونین ٹیرٹیریز میں شامل ہو چکا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جموں و کشمیر کوہیلتھ اَتھارٹی نے درمیانے درجے کی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریزمیں فی لاکھ آبادی سب سے زیادہ ہیلتھ ریکارڈ لنکنگ حاصل کرنے کے لئے قومی ایوارد سے نوازا ہے ۔ رواں برس کے شروع میںجموںوکشمیر کو مشن کے تحت اس کی بہترین کارکردگی دِکھانے والی ماڈل ہیلتھ کیئر سہولیات کے لئے بھی تسلیم کیا گیا تھا۔منیجنگ ڈائریکٹر اے بی ڈِی ایم اننت دویدی نے گزشتہ جائزہ میٹنگ کے بعد ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اَب تک زائد اَز1.12 کروڑ اے بی ایچ اے (آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ) آئی ڈیز بنائے گئے ہیں جو تخمینہ شدہ آبادی کا تقریباً 83 فیصد احاطہ کرتے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ اے بی ایچ اے سے منسلک الیکٹرانک صحت ریکارڈز کی تعداد میں خاطر خواہ اِضافہ ہوا ہے جبکہ زائد اَز 1.34 کروڑسکین اور شیئر ٹوکنز جاری کئے جاچکے ہیں جو لوگوںکی جانب سے ڈیجیٹل صحت خدمات کے بڑھتے ہوئے اِستعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔اُنہوں نے مزید اِنکشاف کیاکہ ہیلتھ فیسلٹی رجسٹری (ایچ ایف آر) اور ہیلتھ پروفیشنل رجسٹری (ایچ پی آر) پر تمام سرکاری صحت اِداروں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی صد فیصد رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے جس سے قومی ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارم پر سرکاری صحت نظام کی مکمل شمولیت یقینی بنائی گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ جائزہ میٹنگ میں طے کئے گئے تمام اہم اہداف جن میں سرکاری ڈاکٹروں کی مکمل رجسٹریشن، منفرد صحت ریکارڈز کی تیاری اور ریڈیالوجی و امیجنگ رِپورٹوں کو آبھا(اے بی ایچ اے) آئی ڈیز کے ساتھ مربوط کرنا شامل ہے، بھی کامیابی سے مکمل کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر اہل شہری جو کسی صحت ادارے میں آئے، اسے موقع پر ہی ابھا( اے بی ایچ اے) آئی ڈی بنانے میں سہولیت فراہم کی جائے جبکہ عوامی بیداری مہمات اور مختلف محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے اس عمل کو مزید تیز کیا جائے۔چیف سیکرٹری نے جے کے اِی۔ سہج(ایس اے ایچ اے جے) پلیٹ فارم کے تحت ہاسپٹل مینجمنٹ اِنفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی عمل آوری اور نیکسٹ جنریشن اِی۔ہسپتال نظام کی جانب منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔انہیں بتایا گیا کہ جے کے اِی سہج کو جموں و کشمیر کے 100 سے زائد صحت اداروں میں نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ 85 ہسپتالوں کو نیکسٹ جنریشن ایچ ایم آئی ایس پلیٹ فارم سے جوڑا جا چکا ہے۔ باقی شناخت شدہ اداروں کو آئندہ دو ہفتوں میں اس پلیٹ فارم پر منتقل کیا جائے گا جس کے بعد رجسٹریشن، داخل مریض (آئی پی ڈِی)، فارمیسی، لیبارٹری اور ریڈیالوجی ماڈیولز کو مرحلہ وارعملایا جائے گا۔اِس کے علاوہ سکین اینڈ شیئر، الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (اِی ایم آر) کی تیاری اور ڈیجیٹل صحت ریکارڈز کو آبھا(اے بی ایچ اے) آئی ڈیز سے منسلک کرنے کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے زیادہ تر مریض اب سکین اینڈ شیئر کے ذریعے ڈیجیٹل رجسٹریشن کی سہولیت استعمال کر رہے ہیں جبکہ اِی ایم آر کی تیاری اور لیبارٹری، فارمیسی اور ریڈیالوجی رپورٹوںکو آبھا(اے بی ایچ اے) سے مربوط کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔میٹنگ کو جے کے صحت ایپ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کے ذریعے شہری سکین اینڈ شیئر، آبھا(اے بی ایچ اے) آئی ڈی کی تخلیق، صحت ریکارڈ دیکھنے، بلڈ بینک خدمات، آن لائن اپائنٹمنٹ، ٹیلی کنسل ٹیشن ، ایمبولینس سروسز، ہوم ہیلتھ کیئراور فارمیسی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔میٹنگ میںبتایا گیا کہ اس پلیٹ فارم پر 15.5 لاکھ سے زائد شہری رجسٹرڈ ہو چکے ہیںجبکہ لاکھوں صارفین مختلف ڈیجیٹل صحت خدمات سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں۔ افسران نے مزید بتایا کہ ایپ کے تازہ ترین ورژن میں ہیلتھ لاکر اور دیگر جدید ڈیجیٹل صحت سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ شہریوں کو مزید آسانی فراہم کی جا سکے۔چیف سیکرٹری نے مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ صد فیصدآبھا کوریج، آبھا سے منسلک الیکٹرانک صحت ریکارڈز کی تیاری میں اضافہ، ہسپتالوں میں سکین اینڈ شیئر خدمات کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور پورے جموں و کشمیر کے تمام صحت اِداروں میںاے بی ڈِی ایم سے منسلک ایچ ایم آئی ایس کی مکمل عمل آوری کو یقینی بنایا جائے ۔ کے مکمل نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔