میڈیکل کالجوں میں ایم آر آئی اورپیٹ اسکین کی تنصیب میں تاخیر

4 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت،فنڈس اور ماہر ین کی کمی سے مشینوں کی تنصیب متاثر

سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے سرکاری میڈیکل کالجوں میں جدید ایم آر آئی اور پی ای ٹی اسکین مشینوں کی تنصیب میں پیش آنے والی انتظامی اور طریقہ کار کی رکاوٹوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی حلف نامہ عدالت میں پیش کرے۔یو این ایس کے مطابق یہ ہدایت قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے صحت کے شعبے سے متعلق ازخود نوٹس عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کے دوران جاری کی۔ عدالت کی توجہ امیکس کیوری کی جانب سے دائر درخواست کے ذریعے اس جانب مبذول کرائی گئی، جس میں ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ فنڈز کی کمی اور تربیت یافتہ ماہر افرادی قوت کی قلت کے باعث جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری میڈیکل کالجوں میں جدید تشخیصی مشینوں کی خریداری اور تنصیب کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔ڈویڑن بنچ نے محکمہ صحت و طبی تعلیم سمیت متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ یونین ٹیریٹری کے مختلف گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں ایم آر آئی اور پی ای ٹی اسکین مشینوں کی خریداری اور تنصیب کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی مکمل تفصیلات عدالت کے ریکارڈ پر پیش کریں۔عدالت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ 18 مئی 2026 کے اپنے سابقہ حکم کے باوجود کسی بھی متعلقہ فریق نے مقررہ مدت میں جواب داخل نہیں کیا۔ تاہم سرکاری وکیل کی درخواست پر عدالت نے جموں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن محکمہ صحت و طبی تعلیم، کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور دیگر متعلقہ فریقین کو جوابات اور تازہ اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لیے مزید چار ہفتوں کی مہلت دے دی۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جموں کے دفتر سے موصول ہونے والا انکوائری ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے، جسے وہ آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش کریں گی۔عدالت نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ 18 مئی کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور عوامی مفاد کی عرضی میں اٹھائے گئے تمام نکات سے متعلق تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ جمع کرائیں۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 7 ستمبر 2026 کو مرکزی مقدمے کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔