موسلا دھار بارش سے وادی کے کئی علاقے زیر آب

موسلا دھار بارش سے وادی کے کئی علاقے زیر آب

ڈل گیٹ بلیوارڈ روڈ پر پانی جمع، گھروں، دکانوں اور ہوٹلوں میں پانی داخل

سرینگر//وادی کشمیر میں پیر کو موسلا دھار بارش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا، جس کے نتیجے میں سرینگر سمیت کئی اضلاع میں سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے صفاپورہ علاقے میں بادل پھٹنے اور شدید بارش کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔سرکاری حکام کے مطابق پیر کی علی الصبح سے ہی وادی کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ کئی مقامات پر انتہائی تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جس سے شہری زندگی متاثر ہوئی اور کئی اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔یو این ایس کے مطابق بارش کے بعد ڈل گیٹ علاقے میں سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ متعدد رہائشی مکانات، دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ڈل جھیل کے کنارے واقع سرینگر کی مصروف ترین سیاحتی شاہراہ بولیوارڈ روڈ بھی کئی مقامات پر زیرِ آب آگئی، جس کے باعث گاڑیوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ سڑک کے بڑے حصے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گاڑیاں مشکل سے گزر رہی ہیں، جس سے سیاحوں، مقامی باشندوں اور تاجروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی رہائشیوں اور دکانداروں نے بتایا کہ بارش کا پانی گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں داخل ہونے سے سامان کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں نکاسی آب کا نظام ناکافی ہے، جس کی وجہ سے ہر بار نسبتاً زیادہ بارش شہریوں کے لیے بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔شدید بارش کے باعث جے وی سی اسپتال بھی زیرِ آب آ گیا، جس سے مریضوں، تیمارداروں اور اسپتال عملے کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسپتال کے اندر نقل و حرکت متاثر ہوئی۔یو این ایس کے مطابق شہریوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود شہر کی اہم شاہراہیں اور تجارتی علاقے آج بھی ہر شدید بارش کے بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں، جو منصوبہ بندی اور نکاسی آب کے نظام میں موجود خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہر کے ڈرینیج نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مستقبل میں شہریوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ادھر انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں جمع پانی نکالنے کے لیے مشینری اور عملہ تعینات کر دیا ہے، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور بارش کے پیش نظر شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام نے بتایا کہ گاندربل کے صفاپورہ علاقے میں شدید بارش اور بادل پھٹنے کے باعث ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم بروقت انتظامی کارروائی کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔دارالحکومت سرینگر کے علاوہ بڈگام، پمپور، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور دیگر کئی علاقوں میں سڑکوں، بازاروں اور نشیبی بستیوں میں پانی جمع ہونے سے آمد و رفت متاثر ہوئی، جبکہ کئی مقامات پر ٹریفک جام بھی دیکھنے میں آیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرینگر میں 45.6 ملی میٹر، گاندربل میں 46 ملی میٹر، سوپور میں 55.4 ملی میٹر، پانپورمیں 21.5 ملی میٹر، بڈگام میں 15 ملی میٹر، بانڈی پورہ میں 10.5 ملی میٹر، گلمرگ میں 8.2 ملی میٹر جبکہ پہلگام میں 3.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ وادی میں 23 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق 21 سے 23 جولائی کے دوران بعض مقامات پر شدید بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران تیز ہوائیں 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، پہاڑی پتھروں کے کھسکنے، اچانک سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال سے متعلق جاری سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔