پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں// ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے پیر کو نئی دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر منعقدہ احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کی سیاسی جدوجہد صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آئینی حقوق کی بحالی کے لیے بھی تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے انہیں دہلی آکر احتجاج کرنے پر مجبور کیا اور اب پرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔یو این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، ارکان پارلیمنٹ، وزراء ، اراکین اسمبلی اور پارٹی کارکنان کے ہمراہ عمر عبداللہ نے جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے علامتی انداز میں آٹو رکشہ کے ذریعے جنتر منتر پہنچ کر احتجاج میں حصہ لیا۔احتجاج کے دوران جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت نہ ملنے کے بعد نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے کانسچوشنل کلب کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش کی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران ہر آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا تاکہ مرکز اپنے وعدے پورے کرے، مگر بار بار یاد دہانی کے باوجود ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں دہلی آکر احتجاج کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ہم مسلسل مرکزی حکومت کو یاد دلا رہے تھے کہ وہ وہی وعدے پورے کرے جو پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے تھے۔”انہوں نے کہا کہ منتخب اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں نیشنل کانفرنس نے خصوصی قرارداد منظور کروا کر ریاستی درجے، خصوصی آئینی پوزیشن، خصوصی حیثیت اور آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا اور پارٹی اپنے اس ایجنڈے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ آج کا احتجاج ایک طویل سیاسی مہم کا آغاز ہے۔ “پہلے ریاستی درجہ بحال ہوگا اور اس کے بعد خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد آگے بڑھے گی۔وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ملک کے دارالحکومت میں بھی انہیں پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی، جو جمہوریت کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنے حق کے لیے ملک کے دارالحکومت آئے، لیکن یہاں بھی ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے محض چند درجن لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے آئے تھے تاکہ مرکزی حکومت کو اس وعدے کی یاد دہانی کرائی جا سکے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو ’’جلد از جلد‘‘ ریاستی درجہ بحال کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر حکومت اب بھی “مناسب وقت” کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ آخر یہ مناسب وقت کب آئے گا۔یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے خبردار کیا کہ اگر مرکزی حکومت کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو اسے عوام کے سامنے واضح طور پر اس کا اعلان کرنا چاہیے، تاکہ اس کے بعد نیشنل کانفرنس اپنی آئندہ حکمت عملی طے کر سکے۔بعد ازاں عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بھی اپنے ردعمل میں کہا،’’ہمیں جنتر منتر پہنچنے سے روکا گیا اور اپنے جائز حق کے لیے پرامن احتجاج کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، لیکن ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکا۔ ریاستی درجے، اپنے حقوق، وقار اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کی بحالی کی یہ جدوجہد ابھی صرف آغاز ہے۔‘‘نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی کا احتجاج وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ان کے وعدے یاد دلانے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی درجے کی مکمل بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً دو سال ہونے والے ہیں، مگر ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتیں اسی وعدے کی یاد دہانی کرانے کے لیے دہلی آئی ہیں اور حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ آخر “مناسب وقت” کب آئے گا۔رکن پارلیمان سجاد کچلو نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر عوام کے منتخب نمائندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر پر شدید ناراض ہیں۔










