پیر پنچال بارش متاثرین کے لواحقین کیلئے 6 لاکھ روپے امداد کا اعلان

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا فوری ریلیف اور بازآبادکاری یقینی بنانے کی ہدایت

سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری اور پونچھ اضلاع میں حالیہ شدید بارشوں، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر بارش سے متعلق حادثات میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 6 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے اس امداد کو سوگوار خاندانوں کے لیے فوری ریلیف اقدام قرار دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے گزشتہ روز پونچھ اور راجوری میں پیش آنے والے المناک واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کے نقصان کا کوئی مادی معاوضہ نہیں ہو سکتا، تاہم حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا، گزشتہ روز پونچھ اور راجوری میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر بارش سے متعلق حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا کوئی بھی مالی معاوضہ ازالہ نہیں کر سکتا، تاہم سوگوار خاندانوں کی فوری مدد کے لیے ہر متوفی کے لواحقین کو 6 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا امداد فراہم کی جائے گی۔سرکاری تفصیلات کے مطابق امدادی پیکیج میں 4 لاکھ روپے اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) سے جبکہ 2 لاکھ روپے وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ (سی ایم آر ایف) سے ادا کیے جائیں گے۔یہ اعلان اتوار کی شام وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں راجوری اور پونچھ اضلاع میں تباہ کن بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔یو این ایس کے مطابق اجلاس میں انسانی جانوں کے ضیاع، عوامی و نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات اور جاری امدادی کارروائیوں پر غور کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے دوران ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اور بازآبادکاری کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی متاثرہ شخص کو سرکاری امداد کے حصول میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، بجلی، پانی، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی جلد از جلد بحالی کو یقینی بنائیں، تاکہ متاثرہ عوام کو معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے میں مدد مل سکے۔