ڈوڈہ میں2 افراد کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس، متاثرہ اضلاع میں فوری راحت و بحالی کے احکامات
سرینگر//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسمی حالات کے نتیجے میں مختلف اضلاع میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کاموں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت دی۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، متاثرین کو فوری امداد کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی جلد بحالی ہے۔راج بھون سے جاری بیان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے سینئر سول اور پولیس حکام سے رابطہ کر کے مختلف اضلاع میں ہونے والے نقصانات، ریسکیو آپریشن، سڑکوں کی بحالی، بجلی اور پانی کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ تمام امدادی ادارے مکمل تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔منوج سنہا نے ضلع ڈوڈہ میں شدید بارشوں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ پر انہیں انتہائی دکھ پہنچا ہے اور ان کی دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سرکاری امداد اور تعاون فراہم کیا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے آج سینئر حکام سے بات کر کے شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، جموں و کشمیر پولیس اور بھارتی فوج کی ٹیمیں حساس اور متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ انتظامیہ کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں پونچھ، راجوری، ریاسی اور ادھم پور اضلاع میں کئی اہم سڑکوں کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان اور ضروری خدمات کی رسائی ممکن ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں بارشوں سے متاثر ہونے والی پینے کے پانی کی فراہمی کو بحال کرنے کا کام بھی جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے فیلڈ افسران کو ہدایت دی کہ وہ رہائشی مکانات، سرکاری عمارتوں، سڑکوں، پلوں، آب رسانی کے منصوبوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری اور جامع سروے کریں تاکہ نقصانات کا درست تخمینہ لگا کر متاثرین کو بروقت معاوضہ اور ضروری امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دور دراز اور حساس علاقوں میں مقامی انتظامیہ مسلسل نگرانی برقرار رکھے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ادھر گزشتہ چند روز سے جموں خطے کے متعدد اضلاع میں مسلسل بارشوں کے باعث اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جن سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ کئی علاقوں میں شاہراہیں بند ہوئیں، پانی کی فراہمی متاثر ہوئی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ مختلف امدادی ایجنسیاں مسلسل بحالی اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔










