قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جائے گی،19 جولائی تک رپورٹ طلب
سرینگر//ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے وادی کشمیر کے تمام سرکاری اسکولوں، منظور شدہ نجی تعلیمی اداروں اور کوچنگ مراکز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں موجود تمام نصابی اور مطالعاتی کتابوں کی جانچ کریں تاکہ کسی بھی قسم کے قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جا سکے۔محکمہ کی جانب سے جاری سرکاری سرکلر کے مطابق تمام اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کلاس رومز، لائبریریوں، دفاتر اور اسٹاف رومز میں موجود تمام کتابوں اور مطالعاتی مواد کا مکمل جائزہ لیں۔ اس عمل میں حال ہی میں خریدی گئی کتابوں کے ساتھ ساتھ پرانی اشاعتوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اس جانچ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تعلیمی اداروں میں موجود کوئی بھی کتاب یا مطالعہ جاتی مواد ایسا نہ ہو جس میں طلبہ کے لیے نامناسب، کسی مذہب کے لیے توہین آمیز، ملکی قوانین کے منافی، قومی مفاد کے خلاف یا تسلیم شدہ تعلیمی اقدار سے متصادم مواد شامل ہو۔محکمہ نے واضح کیا ہے کہ تمام کتابوں کا قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت مقرر کردہ عمر کے مطابق تدریسی معیارات سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ طلبہ کو مناسب اور معیاری تعلیمی مواد فراہم کیا جا سکے۔سرکلر کے مطابق اگر کسی ادارے میں قابل اعتراض مواد پر مشتمل کوئی کتاب یا اشاعت پائی جاتی ہے تو متعلقہ ادارے کے سربراہ کو اس کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں کتاب کا عنوان، مصنف کا نام، ناشر، اشاعت کا سال اور ادارے میں موجود اس کتاب کی نقول کی تعداد شامل ہوگی۔یو این ایس کے مطابق تمام اداروں کو ایک تعمیلی سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا، جس میں یہ تصدیق کی جائے گی کہ ادارے میں موجود تمام کتابوں اور مطالعاتی مواد کی مکمل جانچ کر لی گئی ہے۔محکمہ تعلیم نے اس عمل کے لیے ایک مقررہ مدت بھی طے کی ہے۔ تمام رپورٹس پہلے متعلقہ زونل ایجوکیشن افسران اور چیف ایجوکیشن افسران کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کو بھیجی جائیں گی۔سرکلر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ میں قائم ایک خصوصی کمیٹی ضلع وار رپورٹس مرتب کرے گی اور 19 جولائی تک اپنی حتمی رپورٹ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کو پیش کرے گی۔محکمہ نے واضح کیا ہے کہ جاری ہدایات پر عمل درآمد میں غفلت یا مقررہ وقت کے اندر رپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ افسران اور اداروں کے ذمہ داران کے خلاف قواعد کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔










