وزیراعظم مودی اور جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے درمیان اہم معاہدے

وزیراعظم مودی اور جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے درمیان اہم معاہدے

ہند،جاپان سربراہی اجلاس کامیاب، 2027 میں سفارتی تعلقات کے 75 سال منائے جائیں گے

سرینگر// جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے تین روزہ سرکاری دورہ بھارت کے اختتام پر وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ 16واں ہند۔جاپان سالانہ سربراہی اجلاس انتہائی کامیاب رہا اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے اپنی خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون، دفاعی شراکت داری اور علاقائی استحکام کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔یو این ایس کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا کہ جاپانی وزیراعظم کا دورہ بھارت انتہائی کامیاب رہا اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مشترکہ ترقی کے نئے افق عطا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی وزیراعظم کو نئی دہلی سے رخصت کرتے وقت وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی موجود تھے۔سانائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت کے سرکاری دورے پر تھیں۔ دورے کے دوران انہیں راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبالیہ پیش کیا گیا، جس میں وزیراعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔سربراہی اجلاس کے دوران بھارت اور جاپان نے اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے فریم ورک پر اتفاق کیا، جس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں بھی اہم پیش رفت کرتے ہوئے فوجی سازوسامان کی مشترکہ تیاری اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا، جبکہ توانائی کے شعبے میں بھی کئی نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال، ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام، سمندری سلامتی، آزاد اور کھلے بحری راستوں، اقتصادی تعاون اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت اور جاپان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سربراہی اجلاس کے نتائج غیر معمولی طور پر جامع اور دور رس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں جو مستقبل میں تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ 2027 میں بھارت اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر پورے سال کو “ہند۔جاپان مشترکہ افق کا سال” کے طور پر منایا جائے گا۔ اس دوران دونوں ممالک میں ثقافتی، تعلیمی، تجارتی، سیاحتی اور عوامی روابط سے متعلق متعدد خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جاپانی وزیراعظم کا یہ پہلا سرکاری دور? بھارت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، مشترکہ اقدار اور اسٹریٹجک ہم آہنگی پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔ وزارت کے مطابق مستقبل میں بھی دونوں ممالک دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، صاف توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اختراعات، ہنرمندی کی ترقی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔