امرناتھ یاترا بھارت کی روحانی اور ثقافتی یکجہتی کی علامت ہیوزیر اعظم نریندر مودی نریندر مودی
سرینگر// وزیراعظم نریندر مودی نے سالانہ امرناتھ یاترا کے آغاز کے موقع پر عقیدت مندوں کے نام ایک خصوصی دو صفحات پر مشتمل پیغام جاری کرتے ہوئے یاترا کو ایک عظیم سعادت قرار دیا ہے۔ انہوں نے یاتریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مذہبی سفر کے دوران صفائی، تحفظ، ماحولیات کے تحفظ، مقامی معیشت کے فروغ اور قومی تعمیر کے جذبے کو فروغ دیں۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم کا یاتریوں کے نام خط کے عنوان سے جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے ہر ہر مہادیو اورجے بابا برفانی کے نعروں کے ساتھ عقیدت مندوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاترا بھارت کی صدیوں پرانی روحانی روایت، ثقافتی وراثت اور قومی یکجہتی کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں واقع مقدس امرناتھ غار کی یاترا میں شرکت ہر عقیدت مند کے لیے ایک بڑی نعمت ہے اور ملک بھر کے لاکھوں لوگ ہر سال اس مقدس سفر کے منتظر رہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ امرناتھ یاترا اتحاد میں تنوع کے بھارتی تصور کی عملی مثال ہے، جہاں مختلف ریاستوں، زبانوں، ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے افراد بھگوان شیو سے اپنی مشترکہ عقیدت کے جذبے کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی جذبہ ملک کی قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔نریندر مودی نے شری امرناتھ شرائن بورڈ، جموں و کشمیر انتظامیہ اور مختلف سکیورٹی اداروں کی جانب سے یاترا کے کامیاب انعقاد کے لیے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزاروں اہلکار اور رضاکار دن رات عقیدت مندوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بھارتی فوج، سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، آئی ٹی بی پی، بی ایس ایف، این ڈی آر ایف، ڈاکٹروں، طبی عملے، صفائی کارکنوں، انتظامی افسران اور رضاکاروں کی خدمات کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت یاترا کے پرامن انعقاد کو یقینی بناتی ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے عوام کی مہمان نوازی کو بھی یاترا کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ ہر سال عقیدت مندوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گھوڑوں کے مالکان، پورٹروں، پالکی برداروں اور دیگر مقامی افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا کردار خدمت خلق کی بہترین مثال ہے۔اپنے پیغام میں وزیراعظم نے یاتریوں سے پانچ اہم عہد کرنے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلا عہد یہ ہونا چاہیے کہ تمام یاتری صفائی کا خاص خیال رکھیں اور یاترا کے راستوں پر کسی قسم کا کچرا نہ پھینکیں تاکہ قدرتی ماحول محفوظ رہے۔دوسرے عہد کے طور پر انہوں نے عقیدت مندوں سے کہا کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری تمام ہدایات، ٹریفک قوانین اور حفاظتی مشوروں پر مکمل عمل کریں، خصوصاً بارش، پھسلن اور دشوار گزار راستوں کے پیش نظر احتیاط کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔وزیراعظم نے تیسرے عہد کے طور پر مرکز کی “ووکل فار لوکل” مہم کا ذکر کرتے ہوئے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے سفری اخراجات کا کم از کم دس فیصد حصہ جموں و کشمیر میں تیار ہونے والی مقامی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کریں تاکہ مقامی خاندانوں، نوجوانوں، دستکاروں اور چھوٹے تاجروں کی معاشی مدد ہو سکے اور خطے کی معیشت کو تقویت ملے۔یو این ایس کے مطابق چوتھے عہد کے تحت انہوں نے “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سال راکھی کے تہوار کے موقع پر، جو یاترا کے اختتام کے ساتھ موافق ہوگا، عقیدت مند اپنے بہن بھائیوں کو پودا تحفے میں دیں اور ماحولیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔پانچویں عہد میں وزیراعظم نے یاتریوں سے “نیشن فرسٹ” کے جذبے کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنا بھرپور تعاون دیں۔وزیراعظم نریندر مودی نے اظہار امید کیا کہ اس سال کی امرناتھ یاترا سناتن دھرم کے تئیں عقیدت، بھارت کی ثقافتی یکجہتی، خدمت خلق اور قومی ہم آہنگی کا عظیم مظہر ثابت ہوگی۔ انہوں نے دعا کی کہ بابا امرناتھ کی برکتیں تمام یاتریوں پر قائم رہیں، ان کا سفر محفوظ، کامیاب اور روحانی سکون کا ذریعہ بنے، اور وہ نئی توانائی، بیداری اور عزم کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔واضح رہے کہ 57 روزہ سالانہ شری امرناتھ یاترا کا آغاز 3 جولائی سے ہو چکا ہے اور یہ 28 اگست تک جاری رہے گی۔ یاترا کے لیے جموں و کشمیر میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات، جدید نگرانی کا نظام، طبی سہولیات، ٹرانزٹ کیمپ، لنگر، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں عقیدت مندوں کا سفر محفوظ اور سہولت بخش بنایا جا سکے۔










