وزیر اعظم ہند اور جاپانی وزیر اعظم کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات

وزیر اعظم ہند اور جاپانی وزیر اعظم کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات

معاشی تعاون، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور مصنوعی ذہانت پر بھارت، جاپان میں اہم پیش رفت متوقع

سرینگر/ یو این ایس//وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ مذاکرات کیے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے، سیمی کنڈکٹرز کی مضبوط اور پائیدار سپلائی چین قائم کرنے اور اہم جدید ٹیکنالوجیز میں اشتراک بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے معاشی سلامتی کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے میدان میں تعاون کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیے جانے کی توقع ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اعتماد، مشترکہ اقدار اور تزویراتی ہم آہنگی پر مبنی بھارت اور جاپان کی شراکت داری کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کا خیر مقدم کیا۔مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے اہم معدنیات، دواسازی، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا۔جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی اس وقت تین روزہ سرکاری دورے پر بھارت میں ہیں۔بھارت اور جاپان کے تعلقات گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں طور پر مستحکم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2014 میں اپنے تعلقات کو خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کی سطح تک بلند کیا تھا۔سال 2027 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ سے قبل دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، معاشی سلامتی، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس وقت بھارت اور جاپان کے درمیان مختلف شعبوں میں 70 سے زائد دوطرفہ مذاکراتی نظام فعال ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اگست میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا۔