روس کا کیف پر شدید میزائل اور ڈرون حملہ، 20 افراد ہلاک

کیف /ایجنسیز // روس نے یوکرین کی راجدھانی کیف پر رات بھر جاری رہنے والا بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا جس میں کم از کم 20 شہری ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہو گئے۔ روسی حملہ تقریباً 11 گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور ہزاروں شہری فضائی حملے کے انتباہ کے بعد زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں اور پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے۔کیف کی شہری انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق حملوں سے شہر کے کم از کم 30 مقامات متاثر ہوئے جن میں زیادہ تر رہائشی عمارتیں اور شہری بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ یوکرین کے وزیر داخلہ ایہور کلیمینکو نے بتایا کہ تقریباً 20 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔راجدھانی کے مختلف علاقوں میں کئی منزلہ رہائشی عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔ ایک نو منزلہ عمارت میں لوگ ملبے تلے پھنس گئے، جبکہ دوسرے علاقے میں ایک رہائشی عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔ حملے کے دوران فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرون اور میزائل تباہ کیے تاہم بیلسٹک میزائلوں کو روکنا یوکرینی دفاع کیلئے بدستور ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی تنصیبات اور ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ طویل فاصلے کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ روس کے مطابق حملوں کا ہدف صرف فوجی صنعت، اسلحہ سازی کے مراکز، ایندھن کے ذخائر اور فوجی ہوائی اڈوں سے متعلق تنصیبات تھیں۔ دوسری جانب یوکرین نے روس کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں رہائشی علاقوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے اس رات کو “خوف کی رات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اپنی جارحیت کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق یوکرین بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے اس حملے میں 74 میزائل، جن میں 24 بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے اور 496 مختلف اقسام کے ڈرون استعمال کیے۔