فرانس میں پُرتشدد جھڑپ معاملہ،400 افراد گرفتار

پیرس/یو این آئی// فرانس میں فٹ بال شائقین اور پولیس کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں 400 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔پسکاس ایرینا میں کھیلے گئے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) نے آرسنل کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی۔ اس کے بعد ہفتہ کو دیر رات جشن کے دوران پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق راجدھانی پیرس میں بس، ٹرین اور ریل خدمات کو متاثر کرنے والی بدامنی کو روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ آتش بازی اور فلیئرز جلائے گئے ۔ اس جھڑپ میں کئی پولیس افسران زخمی ہوئے ۔ شہر کے بیچوں بیچ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔واضح رہے کہ جہاں پی ایس جی نے لگاتار دوسرا خطاب جیتا تھا، وہیں یہ لگاتار دوسرا سال بھی تھا جب فٹ بال کی وجہ سے تشدد بھڑکا۔ اس سے پہلے 2025 میں فرانسیسی ٹیم کی جیت کے بعد ہوئے جشن نے پرتشدد کی شکل اختیار کرلی تھی۔سوشل میڈیا میں وائرل تصویروں میں پیرس میں سڑکوں پر الیکٹرک بائیک جلتی ہوئی اور جشن منانے والوں کو کم از کم ایک دکان کے شیشے توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ اس بدامنی کے دوران چھ گاڑیاں، دو دکانیں اور ایک بس اسٹاپ کو نقصان پہنچا۔ فرانس کے وزارت داخلہ نے بتایا کہ اتوار کی صبح سویرے 416 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں پیرس کے 280 لوگ شامل ہیں۔
وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے کہا کہ سات افسران زخمی ہوئے ہیں اور انہوں نے اس بدامنی کو ناقابل قبول بتایا۔دائیں بازو کی لیڈر مرین لے پین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ صرف فرانس میں ہی کسی فٹ بال کلب کی جیت فساد بھڑکا دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف فرانس میں ہی جیت کی شام کو ہر کسی کو تشدد کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے اپنے گھروں میں بند رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ ادھر، کھلاڑی اتوار کو دوپہر کے بعد ہوئی فتح پریڈ میں حصہ لیں گے ، جس میں ایفل ٹاور کے پاس چیمپز ڈی مارس کا دورہ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی طرف سے منعقدہ استقبالیہ تقریب شامل ہے ۔