جموں و کشمیر میں مربوط گورننس ، عمل کو آسان بنانے اور خدمات کی مکمل ڈیجٹائیزیشن پر زور دیا
سرینگر//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے تمام محکموں کے انتظامی سیکریٹریوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائیزہ میٹنگ کی صدارت کی ۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم کے بھارت سرکار کے سیکرٹریز کے ساتھ ہونے والے انٹریکشن سے نکلنے والے ایکشن ایبل پوئینٹس پر عملدرآمد کے حوالے سے ایکشن ٹیکن ریپورٹس ( اے ٹی آرز ) کا جائیزہ لیا گیا ۔ میٹنگ میں خاص طور پر’’ Whole of Government ‘‘کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے ، عوامی خدمات کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجٹائیزیشن کے ذریعے Ease of Living کو بڑھانے اور ملک بھر میں جامع عملہ اصلاحات ( Process Reforms ) کرنے پر زور دیا گیا ۔ میٹنگ کے دوران چیف سیکرٹری نے دوبارہ تاکید کی کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد مربوط حکمرانی ، شہری مرکزیت والی انتظامیہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام قائم کرنا ہے جس کا ہدف موثر ، شفاف اور جوابدہ خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ محکموں کو روائتی الگ تھلگ ( silo-based ) طریقہ کار سے آگے بڑھنا چاہئیے اور قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے وکست بھارت @ 2047 کے تحت تصور کئے گئے بڑے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہئیے ۔ پلاننگ ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف اصلاحاتی اقدامات سے متعلق ایکشن ٹیکن ریپورٹس پر ایک تفصیلی پریذنٹیشن دیا گیا ۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ فائنانس ، سکول ایجوکیشن ، سکل ڈیولپمنٹ ، ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ، ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ، ایگریکلچر پروڈکشن ، سوشل ویلفئیر ، پبلک ورکس ، ٹورازم اور ہائیر ایجوکیشن سمیت کئی محکموں نے پہلے ہی ہم آہنگی پر مبنی گورننس ماڈلز اپنا لئے ہیں ، جن میں انٹر ڈیپارٹمنٹل گوارڈینیشن ، ڈیجیٹل انٹی گریشن اور تعاون پر مبنی عمل درآمد کے طریقہ کار شامل ہیں ۔ معاشرتی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اصلاحات کا جائیزہ لیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر جن وشواس اصلاحات کے تحت 20 ایکٹس میں موجود تقریباً 32 مجرمانہ دفعات کو غیر مجرمانہ ( decriminalized ) کر دیا گیا ہے تا کہ تعمیل کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور شہریوں کی سہولت میں اضافہ ہو ۔ اس کے ساتھ ساتھ 19 فرسودہ قوانین کو منسوخ کر دیا گیا ہے تا کہ قانونی فریم ورک کو سادہ بنایا جا سکے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے ۔ چیف سیکرٹری نے یو ٹی بھر میں گورنمنٹ ٹو سٹیزن ( G2C ) خدمات کی 100 فیصد اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹیائیزیشن حاصل کرنے کی تجویز کا بھی جائیزہ لیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ای اُنت پلیٹ فارم کے تحت G2C 1548 خدمات پہلے ہی ڈیجیٹائز کی جا چکی ہیں جبکہ تقریباً 300 اضافی خدمات فی الحال ترقی کے مراحل میں ہیں ۔ میٹنگ کو مطلع کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں زراعت ، اعلیٰ تعلیم ، ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ، ریونیو ، صحت اور پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹس سمیت کلیدی محکموں میں 302 خدمات کو آف لائن عمل ختم کر کے مکمل ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے منتخب کیا گیا ہے ۔ عمل درآمد کا روڈٖ میپ مرحلہ وار عمل پر مشتمل ہے جس میں پالیسی نوٹیفکیشن ، ڈیجٹائیزیشن آڈٹ ، ورک فلو ری انجینئرنگ ، سسٹم انٹیگیریشن ، کیپیسٹی بلڈنگ ، رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور تھرڈ پارٹی آڈٹس شامل ہیں ۔ چیف سیکرٹری نے محکموں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹائیزیشن سے قبل جامع عمل دوبارہ انجینئرنگ ( re-engineering process ) کریں ۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ موجودہ G2G,G2B اور G2C طریقہ کار کو سادہ بنائیں تا کہ رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے اور تیز ، آسان اور شہری دوست گورننس کے نظام کو فروغ دیا جا سکے ۔










