دنیا کو بھارت کی’’اسمارٹ پاور‘‘کا دیاپیغام‘‘،سلامتی اب ترقی کی پہلی شرط //جنرل اپیندر دویدی
سرینگر// یو این ایس//بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دیویدی نے کہا ہے کہ ‘‘آپریشن سندور’’ نے بھارت کی ‘‘اسمارٹ پاور’’ کو دنیا کے سامنے اس کی مکمل شکل میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران بھارتی افواج نے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا، ایک طویل عرصے سے قائم تزویراتی سوچ کو چیلنج کیا اور پھر انتہائی سوچے سمجھے انداز میں کارروائی روک دی، جو ایک منظم قومی حکمت عملی کی مثال تھی۔نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں ‘‘سیکورٹی ٹو پراسپرٹی: اسمارٹ پاور فار سسٹینڈ نیشنل گروتھ’’ کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس دنیا کو ‘‘اسمارٹ پاور’’ کا عملی مظاہرہ دکھایا۔ یہ سیمینار سینٹر فار لینڈ ویلفیئر اسٹڈئز کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں اعلیٰ فوجی حکام، مختلف ممالک کے نمائندوں اور ریٹائرڈ افسران نے شرکت کی۔یو این ایس کے مطابق جنرل دویدی نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے ایک انتہائی منظم اور درست فوجی کارروائی انجام دی، جس نے صرف 22 منٹ میں اپنے مقاصد حاصل کیے۔انہوں نے کہا’’آپریشن سندور کے دوران فوجی مہارت، اطلاعاتی کنٹرول، سفارتی پیغام رسانی اور معاشی عزم کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا گیا۔‘‘آرمی چیف کے مطابق اس کارروائی میں بھارتی افواج نے گہرائی تک جا کر دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور ان مراکز کو تباہ کیا جنہیں بھارت اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے اس سوچ کو بھی توڑا کہ بھارت صرف دفاعی ردعمل تک محدود رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی کے بعد 88 گھنٹوں میں جو فیصلہ لیا گیا، وہ دراصل ‘‘اسمارٹ پاور’’ کی سب سے مکمل مثال تھا، کیونکہ اس میں یہ طے کیا گیا کہ کب طاقت استعمال کرنی ہے، کتنی شدت کے ساتھ کرنی ہے اور کس مقام پر فوجی کامیابی کو تزویراتی کامیابی میں تبدیل کرنا ہے۔جنرل دویدی نے اپنے خطاب میں موجودہ عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا انتشار، بے اعتمادی، طاقت کی سیاست اور بدلتے عالمی اتحادوں کے دور سے گزر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ تجارت، عالمی سپلائی چینز اور اقتصادی روابط دنیا کو جنگوں اور تنازعات سے دور کر دیں گے، لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہو چکی ہے۔آرمی چیف نے کہا’’جن عوامل کو کبھی دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج وہی طاقت کے اظہار اور دباؤ ڈالنے کے ہتھیار بن گئے ہیں۔‘‘انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز کی محدود دستیابی، عالمی سپلائی چینز پر کنٹرول، تیل بردار بحری راستوں پر کشیدگی اور جدید ٹیکنالوجی کی رسائی اب عالمی طاقتوں کی نئی جنگ کا حصہ بن چکی ہے۔جنرل دویدی نے کہا کہ عالمی دفاعی اخراجات اس وقت 2.7 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کیلئے مختص مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب سلامتی اور خوشحالی کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ موجودہ دور میں مضبوط معیشت کیلئے مضبوط سلامتی ناگزیر بن چکی ہے۔ آرمی چیف نے زور دے کر کہا’’اب سلامتی ترقی پر بوجھ نہیں بلکہ ترقی کی بنیادی شرط بن گئی ہے۔‘‘اپنے خطاب میں جنرل دویدی نے ’’سمارٹ‘‘حکمت عملی کی بھی تفصیلی وضاحت کی، جسے انہوں نے بھارت کے مستقبل کی قومی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ’ایس‘سے مراد اسٹیٹ کرافٹ یعنی سفارتی اور حکومتی مہارت ہے، جس کے تحت قومی طاقت کے تمام ذرائع کو ہم آہنگ انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے۔’ایم‘ سے مراد مضبوط صنعتی و پیداواری نظام ہے۔ آرمی چیف نے خبردار کیا کہ جو ملک اپنی ضروریات کی اشیاء خود تیار نہیں کر سکتا، وہ مستقبل میں اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بھی کھو سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق’اے‘ سے مراد جدت، تحقیق اور خود انحصاری ہے، جسے انہوں نے وزیراعظم کے ‘‘جے اے آئی’’ وڑن یعنی مشترکہ صلاحیت، آتم نربھرتا اور اختراع سے جوڑا۔اسی طرح ‘’آر‘سے مراد لچک اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت جبک’ٹی‘سے مراد ٹیکنالوجی میں برتری ہے۔جنرل دویدی نے کہا کہ آنے والے برسوں میں وہی ممالک عالمی منظرنامے پر غلبہ حاصل کریں گے جو جدید ٹیکنالوجی پر مضبوط کنٹرول رکھتے ہوں گے۔انہوں نے کہا’’ہمیں صرف نئی ٹیکنالوجی اپنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ملک کے اندر تیار کرنا، عملی میدان میں استعمال کرنا اور اس میں عالمی قیادت حاصل کرنا ہوگی۔‘‘آرمی چیف نے کہا کہ بھارت کو موجودہ عالمی صورتحال میں نہ صرف اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنانا ہوگا بلکہ سفارتی، معاشی، صنعتی اور تکنیکی میدانوں میں بھی خود کو مستحکم کرنا ہوگا تاکہ ملک مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔










