کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر میں منشیات کی سمگلنگ کو محض ایک مقامی جرم سمجھا جاتا رہا، اَب لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات سمگلراور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے پلوامہ میں منشیات کے خلاف عوامی تحریک میں شرکت کی اور شہریوں سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ منشیات کے ناسور کے خلاف آخری فیصلہ کن ضرب لگائیں تاکہ ہم سب مل کر منشیات و دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرسکے اور اپنی نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچائیں۔اُنہوں نے کہا، ’’گزشتہ ایک ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں عوامی بیداری میں نمایاں اِضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ میں نے بارہمولہ میں ہزاروں لوگوں کو منشیات کے خلاف آواز بلند کرتے دیکھا۔ اِسی طرح جموں، سانبہ، اُودھمپور، کٹھوعہ، سری نگر اور دیگر اضلاع میں نوجوانوں اور والدین کو اس جدوجہد کے لئے پُرعزم پایا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 39 دنوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنے اور سب سے اہم بات یہ کہ برسوں سے چھائی خاموشی ٹوٹنے لگی۔اُنہوں نے کہا، ’’آج وہ خاموشی منشیات کے خلاف ایک اِجتماعی اور بلند آواز احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہماری لڑائی خوف، لالچ اور تباہی سے چلنے والے ایک وسیع نارکو دہشت گردی نیٹ ورک کے خلاف ہے۔ صرف پلوامہ میں حالیہ دنوں کے دوران زائد اَز 11 ہزار مقامی پروگرام منعقد کئے گئے۔ 48 منشیات سمگلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ 56 منشیات فروش گرفتار کئے گئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کی جڑوں پر براہِ راست ضرب لگا رہے ہیں۔‘‘منوج سِنہانے کہا کہ کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر میں منشیات کی سمگلنگ کو ایک معمولی مقامی جرم سمجھا جاتا رہا لیکن اَب لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات سمگلر اور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’منشیات سمگلر ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرکے منافع کماتے ہیں اور دہشت گرد تنظیمیں اسی پیسے کو جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لئے اِستعمال کرتی ہیں۔ ایک منشیات فروش کا ہر سودا نہ صرف ایک نوجوان کی زِندگی برباد کرتا ہے بلکہ بے گناہ شہریوں کے قتل کے لئے مالی مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ جب منشیات فروش پیسہ کماتے ہیں تو ہمارے نوجوان اپنا مستقبل کھو دیتے ہیں اور یہی رقم دہشت گردوں کو معصوم لوگوں کے خلاف ہتھیار فراہم کرتی ہے۔ اِسی لئے میرا عزم اور پختہ وعدہ ہے کہ ہم جموں و کشمیر کی سرزمین سے منشیات سمگلروں پیڈلرزکا مکمل خاتمہ کریں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نارکو ٹیرر ایکو سسٹم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اَب وہ کہیں بھی چھپ نہیں سکتے اور قانون عملانے والے اِدارے ان کے تعاقب میں ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم تمہیں تمہارے گہرے ترین ٹھکانوں سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔ ہمارا مقصد صرف گرفتاریاں نہیں بلکہ منشیات کی دہشت گردی کی پوری گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور اِس زہر کی جڑوں کو اُکھاڑ پھینکنا ہے جہاں سے یہ پھیلتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ 11 ؍اپریل سے اَب تک تقریباً 897 منشیات سمگلر اورپیڈلرزگرفتار کئے جا چکے ہیں۔ 18 سمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ 382 منشیات فروشوں کے ڈرائیونگ لائسنس اور 386 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے۔ 49 غیر منقولہ جائیدادیں قرق جبکہ 45 املاک منہدم کی گئی ہیں۔جموںوکشمیر کے دونوں صوبوںمیں تقریباً 5,045 میڈیکل سٹوروں کا معائینہ کیا گیا ، 225 میڈیکل سٹوروں کے لائسنس معطل، 27 کے لائسنس منسوخ جبکہ 6 سٹوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ 11 ؍اپریل سے اَب تک جموں و کشمیر میں 393,000 پروگرام منعقد کئے گئے جن میں لاکھوں اَفراد نے بیداری اور بیداری مہمات کے ذریعے شرکت کی۔جموں وکشمیر بھر میں زمینی سطح پر نگرانی اور بحالی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے 6,646 دیہی خواتین کمیٹیاں اور 2,997 یوتھ کلب قائم کئے گئے ہیں تاکہ منشیات کی سمگلنگ کو روکا جا سکے اور نشے میں مبتلا اَفراد کی بحالی یقینی بنائی جا سکے۔ روزانہ زائد اَز 100 ہیلپ لائن کالز موصول ہو رہی ہیں جبکہ اَب تک 52,000 سے زائد مریضوں کا علاج ڈرگ ڈِی ایڈکشن سینٹروں میں کیا جا چکا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے کہا، ’’جیسے جیسے یہ 100 روزہ مہم آگے بڑھ رہی ہے ہمیں اس کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ چوکس رہیں، متحد رہیں۔ میں جموں و کشمیر کے عوام کو یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ ایک منشیات فروش کو روکنا ایک زندگی بچانے کے مترادف ہے اور ہر بچائی گئی زندگی وادی میں دہشت گردی کو کمزور کرتی ہے۔ ہم سب مل کر جموں و کشمیر میں نشے کی زنجیروں کو توڑیں گے، دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے اور اَپنی گلیوں، گھروں اور مستقبل کو روشن کریں گے۔ ایک ماہ قبل ہم نے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کا خواب دیکھا تھا اور آج ہم ثابت کر رہے ہیں کہ یہ خواب حقیقت بن رہا ہے۔‘‘










