لعل دید کا پیغام انسانیت کیلئے لائف لائن بن سکتا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر
سرینگر//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے سرینگر میں ’’ لعل دید نیشنل ایوارڈ تقریب ‘‘ میں شرکت کی ۔ اس باوقار ایوارڈ تقریب کا اہتمام سرحد پونے نے کیا تھا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ لعل دید نیشنل ایوارڈ سے نوازے گئے ناری شکتی نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارنامے انجام دئیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لعل دید جیسے سنتوں کے آشیر واد نے قوم کے ویژن ، اس کے فنون ، ادب ، موسیقی ، لوک روایات اور گہری روحانی حکمت کو پروان چڑھایا اور محفوظ کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ اپنے شعبوں میں نئے معیارات قائم کر کے قابل ذکر خواتین نے معاشرے کی روح کو تشکیل دینے میں مدد کی ہے ۔ خواتین کو بااختیار بنانا معاشرے اور حکومت دونوں کیلئے اولین ترجیح ہونا چاہئیے ۔ ہمیں خواتین کو اختراعات اور صنعت کاری میں بھی ترجیح دینی چاہئیے تا کہ ان کی قیادت میں ادارے مضبوط ہوں ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ آج کی دنیا میں لعل دید کا پیغام انسانیت کیلئے لایف لائن بن سکتا ہے اور ان کا ہمدردی ، سچائی اور اخلاقیات کا فلسفہ ایک ایسے عالمی معاشرے کی بنیاد ہے جو امن ، شمولیت اور بھائی چارے کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ لعل دید کی زندگی معاشرے کو سکھاتی ہے کہ چاہے کتنا ہی بڑا چیلنج کیوں نہ ہو ، انسان کی اندرونی طاقت ، ایمان اور ہمت مشکل ترین آزمائشوں کو بھی ترقی اور سیکھنے کے مواقع میں بدل سکتی ہے ۔ لعل دید ان تمامتلاشیوں کیلئے امید کی کرن بن گیا جنہوں نے یہ یقین کرنے کی ہمت کی کہ انسانیت صحیح معنوں میں بہتر ہو سکتی ہے اور اس کے آدرشوں نے لوگوں کو زیادہ ہم آہنگی والی دنیا کی طرف رہنمائی کی ۔ ‘‘انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ناری شکتی قربانی ، ہمدردی اور مساوات کی مثال ہے اور یہ معاشرے اور قوم کا یکساں فرض ہے کہ وہ خواتین کیلئے مکمل حقوق حاصل کریں ۔یہ باوقار ایوارڈ ہم عصر کشمیری شاعرہ محترمہ بملا رینہ ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ شاعر پروفیسر نسیم شفائی ، اسکالر ، مصنف اور راج بھاشا ماہر ڈاکٹر سکینہ اختر ، ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی چئیر پرسن ، جموں و کشمیر وقف بورڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ممتاز مصنفہ ، ماہر تعلیم پروفیسر نیرجا مٹو کو پیش کیا گیا ۔










