250 سے زائد فارغ طلبہ کا مستقبل خطرے میں قرار,طلبہ نے حکومت اور انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا
سرینگر// یو این ایس//صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ صورہ کے بی ایس سی میڈیکل ٹیکنالوجی کورس سے وابستہ طلبہ نے آج احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی ڈگریاں ادارے کے باہر تسلیم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث تقریباً 250 فارغ طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ کورس اسکمز کی جانب سے شروع کیا گیا تھا اور اس میں داخلے بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس امتحانات کے ذریعے عمل میں لائے گئے تھے۔ تاہم کورس مکمل کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ڈگری متعلقہ اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اسکمز کے باہر ملازمتوں اور پروفیشنل رجسٹریشن کیلئے نااہل قرار دیے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق طلبہ نے کہا کہ انہوں نے بوپی کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کیا اور برسوں کی محنت کے بعد ڈگری مکمل کی، لیکن اب انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ڈگری دیگر اداروں میں قابلِ قبول نہیں۔ایک طالب علم نے کہا’’ہم نے باقاعدہ امتحان دے کر اسکمز میں داخلہ لیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ کورس رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اور ہماری ڈگری اسکمز کے باہر ملازمت کیلئے تسلیم نہیں کی جا رہی۔‘‘طلبہ کے مطابق وہ گزشتہ کئی برسوں سے اسکمز انتظامیہ سے اس مسئلے کے حل کیلئے رجوع کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے نہ تو کورس کی رجسٹریشن مکمل کرائی اور نہ ہی متعلقہ اداروں، بشمول الائیڈ ہیلتھ کونسل، سے منظوری حاصل کی گئی۔احتجاجی طلبہ نے دعویٰ کیا کہ کئی فارغ طلبہ کو مختلف اداروں میں ملازمت سے صرف اس لیے محروم ہونا پڑا کیونکہ ان کی ڈگری کو غیر تسلیم شدہ قرار دیا گیا۔ایک اور طالب علم نے کہا’’ہم گزشتہ چھ سے آٹھ برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ ہماری ڈگریاں اسکمز کے باہر بھی قابلِ قبول بن سکیں، لیکن آج تک کوئی حل نہیں نکالا گیا۔‘‘طلبہ نے حالیہ بھرتی اشتہارات پر بھی اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسکمز میں بعض آسامیوں کیلئے اہلیت کے معیار میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ باہر کے امیدواروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے، جبکہ ادارے کے اپنے فارغ طلبہ کے مسائل مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی دوسرے امیدوار کی مخالفت نہیں کر رہے، بلکہ ان کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ انتظامیہ پہلے ان کی ڈگریوں کو قانونی اور پیشہ ورانہ سطح پر تسلیم شدہ بنائے تاکہ وہ بھی ملک کے دیگر اداروں میں ملازمت حاصل کر سکیں۔احتجاج کرنے والے طلبہ نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو کئی اعلیٰ حکام اور وزیرِ صحت کے سامنے بھی اٹھا چکے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا۔طلبہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ انتظامیہ نے انہیں بتایا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن کے نئے ضابطوں کے تحت مستقبل میں اس کورس کو بند بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے پہلے سے زیرِ تعلیم اور فارغ ہو چکے طلبہ میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔طلبہ نے حکومت اور اسکمز انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 250 نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور اگر جلد مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ان کی برسوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔










