lg manooj sinha

ریاستی درجے کی بحالی پر عوام کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھنا چاہئے:منوج سنہا

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاستی درجہ ضرور بحال کیا جائے گا کیونکہ یہ وعدہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کیا ہے، اور عوام کو ان کی یقین دہانیوں پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہئے۔یو این ایس کے مطابق ایک قومی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں منوج سنہا نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حد بندیکے بعد اسمبلی انتخابات ہوں گے اور اس کے بعد مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا’’جو لوگ پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایوان میں دی گئی یقین دہانی کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ عوام کو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی باتوں پر اعتماد رکھنا چاہئے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کو ‘‘تاریخی’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے انتخابی عمل کے دوران پتھراؤ کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا، سیاسی جماعتوں نے رات دیر تک انتخابی مہم چلائی اور لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حلقے میں دوبارہ پولنگ کی ضرورت پیش نہیں آئی، جو حالات میں بہتری کا ثبوت ہے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی کارکردگی سے متعلق سوال پر منوج سنہا نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا’’وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ عمر عبداللہ ریاستی درجے کے مسئلے پر اتنے بے چین کیوں نظر آتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا’’میں یہ نہیں کہہ سکتا۔‘‘اپنے چھ سالہ دورِ اقتدار کے دوران جموں و کشمیر میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ آج لوگ آزادانہ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، امن قائم ہوا ہے، ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور معیشت میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ذمہ داری سنبھالی تھی تو جموں کشمیر بنک تقریباً 1300 سے 1400 کروڑ روپے خسارے میں تھا، لیکن آج یہی ادارہ تقریباً 2000 کروڑ روپے منافع میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت، زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں غیر معمولی ترقی دیکھنے کو ملی ہے جبکہ امن کے حامی عناصر کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر میں مقبولیت سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کی قبولیت پہلے بھی موجود تھی، لیکن اب اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ مودی حکومت کے دور میں جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے ہیں، جن میں کشمیر سے کنیا کماری تک ریل رابطہ، قومی شاہراہیں، ایکسپریس ویز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق’’آپریشن سندور’’ کی پہلی برسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ‘‘پڑوسی ملک’’ یعنی پاکستان کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے اس حملے میں ملوث تمام افراد کو ہلاک کر دیا۔انہوں نے کہا’’ہماری مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران صرف 72 گھنٹوں میں اپنے تمام اہداف حاصل کیے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دنیا میں اس وقت دو بڑی جنگیں جاری ہیں جن کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے، لیکن بھارتی افواج نے مختصر وقت میں اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا۔دہشت گردی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں میں نئی بھرتیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اور تمام بڑے کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان دراندازی کے ذریعے دہشت گردوں کو داخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن سیکورٹی فورسز انہیں بھی ختم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سیکورٹی اداروں کی توجہ زیادہ تر کشمیر پر مرکوز تھی جس کی وجہ سے کچھ دہشت گرد جموں کے پہاڑی علاقوں تک پہنچ گئے، لیکن اب پورا سیکورٹی گرڈ مضبوط کر دیا گیا ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ‘’’نشہ مْکت جموں و کشمیر‘‘مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ منشیات اور دہشت گردی آپس میں جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی، اسلحہ خریدنے اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا’’اگر دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تو منشیات کے ناسور کو روکنا ہوگا، اور ہم اسی سمت میں سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘‘منوج سنہا نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے تنگدھار، کرناہ، سانبہ، کٹھوعہ اور پنجاب کے راستوں کے علاوہ ڈرونز کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن سیکورٹی فورسز نے تقریباً 90 فیصد سپلائی چین توڑ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے منشیات فروشوں کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں، ان کی تصاویر تھانوں میں آویزاں کی گئی ہیں، 76 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 856 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً 676 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جن میں 6 کلو ہیروئن بھی شامل ہے۔ کئی جائیدادیں ضبط اور منہدم کی گئی ہیں جبکہ ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت صرف سخت کارروائیوں پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے اسکولوں، اضلاع اور مختلف سطحوں پر کھیل، ثقافتی اور موسیقی کے پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض لوگ اس مہم سے پریشان ہیں، لیکن واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بے گناہ شہری کو ہراساں نہ کیا جائے، اور اگر ایسی کوئی شکایت سامنے آئی تو سخت کارروائی ہوگی۔سرحدی دیہات کی ترقی پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت ‘‘وائبرنٹ ولیجز’’ پروگرام کے تحت سرحدی علاقوں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو پہلے نظر انداز کیا جاتا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے ان کے اہل خانہ کو نوکریاں اور دیگر امدادی سہولیات فراہم کی ہیں۔شدت پسندی اور ریڈیکلائزیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس خطرے کا مقابلہ کر رہی ہیں اور حالات پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے۔آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’اب کسی بھی خطے کے ساتھ امتیاز کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘‘