93 لاکھ روپے کی مبینہ جعلسازی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر پولیس کے اکنامک آفینسز وِنگ نے منگل کے روز بڈگام ضلع میں ایک مبینہ اراضی دھوکہ دہی معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔پولیس ترجمان کے مطابق ای او ڈبلیو کی ٹیم نے ضلع بڈگام کے سمسان گاؤں میں ایک ملزم کی رہائش گاہ پر ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی موجودگی میں چھاپہ مار کارروائی کی۔ اس دوران کیس سے متعلق اہم شواہد، دستاویزات اور دیگر قابلِ اعتراض مواد جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔یو این ایس کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ یہ معاملہ تقریباً 93 لاکھ روپے کی مبینہ اراضی جعلسازی سے متعلق ہے، جس میں بڈگام کے جوالہ پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے غلام محی الدین اور سوم ناتھ کول نامزد ملزمان ہیں۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندہ کو مبینہ طور جعلی معاہدوں کے ذریعے پلوامہ کے دروسو علاقے میں پانچ کنال مہاجر زمین اور اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں موجود 300 درخت خریدنے کے لیے آمادہ کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق سوم ناتھ کول نے خود کو اصل مالکان کا اٹارنی ہولڈر ظاہر کیا جبکہ غلام محی الدین ڈار نے گواہ کے طور پر کردار ادا کیا۔ تاہم تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ نہ مذکورہ زمین ملزمان کی ملکیت تھی اور نہ ہی درخت ان کے تھے۔ای او ڈبلیو کے ترجمان نے کہا کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔










