جموں و کشمیر میںاراضی ریکارڈ اب کاغذوں سے کمپیوٹر تک منتقل

جموں و کشمیر میںاراضی ریکارڈ اب کاغذوں سے کمپیوٹر تک منتقل

کئی اضلاع نے سو فیصد ہدف حاصل کیا، ریاسی اور اننت ناگ میں رفتار سست

سرینگر//یو این ایس//جموں و کشمیر میں زمینی ریکارڈ کے روایتی اور پیچیدہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکومتی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور حکام کے مطابق یوٹی میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوتروں میں منتقلی تقریباً مکمل کر لی گئی ہے۔ اس عمل کے تحت لاکھوں خاصروں، جمعبندیوں اور میوٹیشن ریکارڈ کو آن لائن نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ زمین سے متعلق معاملات میں شفافیت، آسانی اور تنازعات میں کمی لائی جا سکے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں موجود مجموعی 68,59,915 خاصروں میں سے 64,06,641 خسروںکی منظوری مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ باقی معاملات مختلف تکنیکی اور تصدیقی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام کے تحت جاری ہے، جس کا مقصد دہائیوں پرانے زمینی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹل نظام سے جوڑنا ہے۔ریونیو حکام کے مطابق اراضی ریکارڈ کی کمپیٹوروں میں تبدیلی سے نہ صرف عوام کو زمین سے متعلق معلومات تک آسان رسائی حاصل ہوگی بلکہ جعلی اندراجات، ریکارڈ میں ردوبدل اور ملکیتی تنازعات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس نظام کے تحت زمین کے ریکارڈ کو آن لائن محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ شہری گھر بیٹھے اپنی اراضی کی تفصیلات حاصل کر سکیں۔اعداد و شمار کے مطابق رام بن، شوپیان اور گاندربل اضلاع نے مکمل ہدف حاصل کرتے ہوئے اپنے تمام خاصروں کی منظوری مکمل کر لی ہے، جبکہ سرینگر، بڈگام، پونچھ، ادھم پور اور کٹھوعہ سمیت کئی اضلاع 99 فیصد سے زائد پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر ضلع میں 2,58,221 خاصروں میں سے 2,58,135 کی منظوری دی جا چکی ہے اور صرف چند معاملات مختلف مراحل میں زیر التوا ہیں، جس کے باعث ضلع میں تکمیل کی شرح 99.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح بڈگام میں 99.96 فیصد، پونچھ میں 99.95 فیصد جبکہ ادھم پور میں 99.73 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔کپواڑہ، سامبہ، راجوری، بارہمولہ اور بانڈی پورہ جیسے اضلاع میں بھی ڈیجی ٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے۔ بارہمولہ، جہاں خاصروں کی تعداد سب سے زیادہ اضلاع میں شمار ہوتی ہے، میں 6.69 لاکھ سے زائد خاصروں کی منظوری دی گئی ہے اور ضلع نے تقریباً 99 فیصد ہدف حاصل کیا ہے۔دوسری جانب کچھ اضلاع میں کام کی رفتار نسبتاً سست رہی۔ اننت ناگ میں صرف 74.65 فیصد کام مکمل ہو سکا جبکہ پلوامہ اور ڈوڈہ میں بھی کئی ہزار معاملات مختلف مراحل میں زیر التوا ہیں۔ ریاسی ضلع سب سے پیچھے رہا جہاں مجموعی کام کا صرف 39.38 فیصد حصہ مکمل ہوا ہے۔ ضلع میں 1.45 لاکھ سے زائد خاصروں میں سے صرف 57 ہزار کے قریب ریکارڈ کی منظوری دی جا سکی جبکہ 88 ہزار سے زیادہ معاملات ابھی باقی ہیں۔حکام کے مطابق 26 دسمبر 2025 کو حکومت نے ریکارڈ میں غلطیوں کی اصلاح، بیک لاگ میوٹیشن کے اندراج، عوامی تصدیق اور جمعبندیوں کو حتمی شکل دینے کیلئے جامع رہنما اصول جاری کئے تھے۔ اس پورے عمل کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی ڈویڑنل کمشنروں اور فائنانشل کمشنر ریونیو کی سطح پر کی جا رہی ہے تاکہ عمل میں شفافیت اور رفتار برقرار رکھی جا سکے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 5,989 دیہات میں اراضی ریکارڈ کی مکمل منظوری دی جا چکی ہے، جو کل دیہات کا تقریباً 88 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ 3,311 دیہات میں عوامی شکایات اور اعتراضات جمع کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ کسی بھی غلط اندراج یا تنازع کو بروقت درست کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اراضی ریکارڈ کی ڈیجی ٹلائزیشن جموں و کشمیر میں انتظامی اصلاحات کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں، بینک قرضوں، اراضی خرید و فروخت اور قانونی معاملات میں بھی شفافیت اور تیزی آئے گی۔